اداریہ

آرٹیفیشل انٹیلیجنس پالیسی کھٹائی میں پڑگئی

  • گزشتہ جولائی میں وفاقی کابینہ نے قومی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پالیسی کی منظوری دی تھی
شائع اپ ڈیٹ

جب گزشتہ جولائی میں وفاقی کابینہ نے قومی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پالیسی کی منظوری دی تو اسے ایک ایسے لانچ پیڈ اور روڈ میپ کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد ملک کو اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کی طرف راغب کرنا، اس حوالے سے حکومت کی ادارہ جاتی اور ریگولیٹری صلاحیتوں میں اضافہ کرنا، نجی شعبے میں جدت پسندی کو مہمیز دینا اور اہم شعبوں میں پیداواری صلاحیتوں کے فوائد حاصل کرنا تھا، یہ تمام کوششیں اس مقصد کے لیے تھیں تاکہ پاکستان کو تیزی سے ڈیٹا پر مبنی ہوتی ہوئی عالمی معیشت میں مقابلے کے لیے تیار کیا جاسکے۔

پالیسی میں وضع کیے گئے اہداف اپنی وسعت کے لحاظ سے کم از کم حیران کن ضرور تھے: جن میں 2030 تک دس لاکھ ( ایک ملین) اے آئی ماہرین کی تربیت، 50 ہزار اے آئی پر مبنی شہری منصوبوں کی تیاری اور ایک ہزار مقامی اے آئی مصنوعات کی تخلیق کے ساتھ ساتھ سالانہ 3 ہزار اے آئی اسکالرشپس دینے جیسے دور رس وعدے شامل تھے۔ لیکن بہت سے دوسرے پالیسی اعلانات کی طرح، یہاں بھی نیت اور عمل درآمد کے درمیان خلیج وسیع ہے؛ اور جیسا کہ حالیہ میڈیا رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے، پالیسی کی منظوری کے چھ ماہ بعد بھی اسے فعال کرنے کے لیے درکار ادارہ جاتی صلاحیت، فنڈنگ کی وضاحت اور فراہمی کا طریقہ کار اب بھی مکمل طور پر غائب ہیں۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے تیزی سے بدلتے ہوئے شعبے میں اس طرح کا سست روی اور غفلت پر مبنی رویہ بڑے سے بڑے اور بلند و بانگ منصوبوں کو بھی ان پر عمل درآمد ہونے سے پہلے ہی متروک (کارآمد نہ رہنا) بنا دینے کا خطرہ رکھتا ہے۔ یہ نمونہ پاکستان میں بہت زیادہ مانوس ہے، جہاں اکثر اوقات ادارہ جاتی جمود (سستی) ماحولیاتی، تکنیکی اور مارکیٹ کے ارتقاء سے بھی آگے نکل جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دور اندیش فریم ورک محض کاغذوں تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔

وزارتِ آئی ٹی کے ذرائع کے مطابق ایک بڑی رکاوٹ صوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی رہی ہے۔ اگرچہ وفاقی حکام نے اس اقدام پر عمل درآمد کے حوالے سے صوبوں سے تجاویز اور رائے طلب کی تھی لیکن کسی بھی وفاقی اکائی (صوبے) کی جانب سے کوئی باقاعدہ جواب موصول نہیں ہوا۔ فرض میں یہ کھلی کوتاہی ان مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے جو اے آئی کے لیے ایک متحد قومی نقطہ نظر تشکیل دینے کے لیے ضروری تھے۔

مزید برآں اس اقدام کا ایک مرکزی ستون یعنی نیشنل اے آئی کونسل جسے پالیسی کے نفاذ کی نگرانی کرنے والے اعلیٰ ترین ادارے کے طور پر تصور کیا گیا تھا، ابھی تک قائم نہیں کیا جاسکا ہے۔ حکومت کو اب جا کر اس بات کا احساس ہوا ہے کہ کونسل کی موجودہ ساخت میں بیوروکریسی کا غلبہ ہونے کا خدشہ ہے اور اسے فیصلہ سازی کو مضبوط بنانے اور اقدامات کو تکنیکی ساکھ فراہم کرنے کے لیے ماہرین کی زیادہ شرکت کی ضرورت ہے۔

درحقیقت اے آئی اقدام کے چھ کلیدی ستونوں جن میں جدت طرازی کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل، آگاہی میں اضافہ، اے آئی اثاثوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا، مختلف شعبوں میں تبدیلی لانا، مطلوبہ تکنیکی انفرااسٹرکچر کی ترقی اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دینا شامل ہے میں سے واحد شعبہ جس میں کچھ محدود پیش رفت نظر آ رہی ہے وہ آگاہی ہے اور وہ بھی صرف اگلے ہفتے اسلام آباد میں ہونے والی ایک واحد تقریب تک محدود ہے۔

ایسے وقت میں جب آرٹیفیشل انٹیلیجنس عالمی سطح پر صحت، طرزِ حکمرانی، تعلیم اور صنعت کے شعبوں میں تیزی سے جدت لا رہی ہے، یہ غیر متاثر کن اور سست روی پر مبنی رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اب بھی بنیادی ڈھانچے کی انتہائی ابتدائی ضروریات، جیسے کہ اعلیٰ معیار کی براڈ بینڈ انٹرنیٹ تک رسائی کی فراہمی کے لیے جدوجہد کررہا ہے جبکہ ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے وسائل اور اے آئی کے لیے مخصوص ڈیٹا سینٹرز بھی بڑے پیمانے پر ناپید ہیں، کیونکہ موجودہ سہولیات بنیادی طور پر صرف روایتی آئی ٹی آپریشنز کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔

اسی کے ساتھ اے آئی کے لیے مخصوص ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں ایک غیر واضح اور مسلسل بدلتے ہوئے پالیسی ماحول کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں، جو ممکنہ شراکت داروں کو بہت کم یقین دہانی فراہم کرتا ہے۔ ڈیٹا کے جامع تحفظ اور سائبر سیکیورٹی کی قانون سازی پر بھی پیش رفت نہ ہونے کے برابر رہی ہے، جس کی وجہ سے قانونی اور تکنیکی ماحول میں سنگین خلا باقی رہ گئے ہیں۔

ان تمام رکاوٹوں کے علاوہ پاکستان کا پابندیوں سے بھرا ہوا ڈیجیٹل ماحول ہے، جس کی نمایاں خصوصیات وی پی این کے استعمال پر پابندیاں، انٹرنیٹ کی سست رفتار اور نیشنل انٹرنیٹ فائر وال قائم کرنے کی کوششیں ہیں؛ ان عوامل نے ہر موڑ پر جدت پسندی اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

لہٰذا اب حکام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کو دوبارہ ترتیب دیں، صوبائی حکومتیں عملدرآمد میں فعال طور پر حصہ لیں، نیشنل اے آئی کونسل کو مکمل طور پر قائم کیا جائے اور ساتھ ہی ملک کے انفرااسٹرکچر اور تکنیکی صلاحیت کو تیز رفتاری سے مضبوط بنایا جائے۔

اسی طرح ایک معاون قانون ساز اور ریگولیٹری ماحول بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو جدت پر مبنی ’اے آئی ایکو سسٹم‘ کی بنیاد رکھ سکے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان تکنیکی برتری کی عالمی دوڑ میں اس حد تک پیچھے نہ رہ جائے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026