عالمی گورننس میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کو زیادہ کردار ملنا چاہیے، وزیرِ خزانہ
- وزیر خزانہ نے بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان مربوط پالیسی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا
وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی اقتصادی نظم و نسق میں ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کو زیادہ مضبوط اور نمائندہ کردار ملنا چاہیے، اور عالمی نمو میں ان کی بڑھتی ہوئی شراکت کو فیصلہ سازی کے فورمز میں زیادہ اثر و رسوخ کی صورت میں تسلیم کیا جانا چاہیے۔
سعودی پریس ایجنسی ( ایس پی اے) کو العلا کانفرنس برائے ابھرتی ہوئی مارکیٹ اکانومیز کے دوسرے ایڈیشن کے موقع پر دیے گئے انٹرویو میں وزیرِ خزانہ نے بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ، تجارتی تقسیم اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، کے تناظر میں مربوط پالیسی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کانفرنس کی میزبانی پر مملکتِ سعودی عرب کو سراہتے ہوئے اسے ایک بروقت اور منظم پلیٹ فارم قرار دیا، جو تیزی سے پیچیدہ ہوتے عالمی اقتصادی ماحول میں وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک گورنرز کو خیالات کے تبادلے کے لیے اکٹھا کرتا ہے۔
اورنگزیب نے نشاندہی کی کہ العلا فنانس کانفرنس کے افتتاحی ایڈیشن کے بعد عالمی اقتصادی منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، جس سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان مزید گہرے تعاون کی ضرورت اجاگر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”ابھرتی ہوئی منڈیاں اور ترقی پذیر معیشتیں اب عالمی پیداوار اور نمو میں نمایاں حصہ ڈال رہی ہیں۔ ان کا بڑھتا ہوا معاشی وزن عالمی گورننس کے ڈھانچے میں بھی نظر آنا چاہیے۔“
وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ ایسے فورمز کو محض مکالمے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں ٹھوس نتائج برآمد کرنے چاہئیں۔
انہوں نے عملدرآمد کو کامیابی کا بنیادی پیمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” یہ صرف بات چیت تک محدود نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں ہے کہ ان مباحث کو ٹھوس پالیسی اقدامات میں ڈھالا جائے اور سال بھر ان پر عمل درآمد ہو۔“
انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی اور ایک زیادہ جامع، لچکدار اور نمائندہ عالمی اقتصادی نظام کی تشکیل میں ان کی اجتماعی آواز کو تقویت دے گی۔