پانی کی قلت سے کراچی کی صنعتیں بحران کا شکار، برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ
- پانی جیسی بنیادی سہولت کی عدم دستیابی نے صنعتی شعبے کو ایک سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے، کاٹی
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا ہے کہ کراچی کے متعدد صنعتی علاقوں میں پانی کی فراہمی کی معطلی نے صنعتی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے جس سے شہر اور ملکی معیشت کو ہونے والے ممکنہ معاشی نقصانات پر گہری تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
اکرام راجپوت نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سب سوائل واٹر ٹھیکیداروں کے درمیان جاری تنازعات کے باعث پانی کی فراہمی میں مسلسل تعطل پیدا ہورہا ہے جس کی وجہ سے شہر کے صنعتی زونز میں قائم کئی فیکٹریاں جزوی طور پر چلنے یا مکمل بند ہونے پر مجبور ہوگئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں برآمدی آرڈرز متاثر ہو رہے ہیں اور پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر کاٹی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی، تجارتی اور معاشی مرکز ہے، جو قومی ریونیو اور برآمدات میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے، تاہم پانی جیسی بنیادی سہولت کی عدم دستیابی نے صنعتی شعبے کو ایک سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پانی کی فراہمی فوری طور پر بحال نہ کی گئی تو صنعتوں کی طویل مدتی بندش سے نہ صرف برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ لاکھوں مزدوروں کا روزگار بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اکرام راجپوت نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور متعلقہ حکام، بالخصوص واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے مطالبہ کیا کہ وہ واٹر کارپوریشن اور سب سوائل ٹھیکیداروں کے درمیان مسائل کو بلا تاخیر حل کریں اور صنعتی علاقوں کو پانی کی فوری فراہمی یقینی بنائیں۔