پاکستان

پاکستان سمیت مسلم ممالک کا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت روکنے کا مطالبہ

  • مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے اسرائیلی حکام کے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور سات دیگر مسلم ممالک نے پیر کو عالمی برادری سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی پرزور اپیل دہرائی ہے۔

پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں شریک ممالک نے اس بات کی سختی سے توثیق کی کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے الحاق کی کوششیں اور یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت کالعدم ہیں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیلی حکام کے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی زبان مقبوضہ مغربی کنارے میں عدم استحکام اور تناؤ کو مزید ہوا دیتی ہے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہے۔

بیان میں متنبہ کیا گیا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کی کوششوں کو زائل کر رہی ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس ضرورت پر زور دیا کہ عالمی برادری محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھ کر ایسے ٹھوس اقدامات کرے جو قبضے کے زیرِ اثر رہنے والے عام شہریوں کے تحفظ اور (اسرائیل کے) احتساب کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ کیا، بشمول تنازعات اور مقبوضہ علاقوں میں شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داریاں۔

مشترکہ بیان میں ان اقدامات کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جو مقبوضہ فلسطینی علاقے کی قانونی، آبادیاتی یا انتظامی حیثیت کو تبدیل کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی الحاق کی کوششوں کے باطل ہونے اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی ضرورت پر مبنی سابقہ موقف کو بھی دہرایا گیا۔