پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا
- عدالت نے صوبائی حکومت کی اس کوشش کو غیر آئینی قرار دیا جس کے تحت سینئر پولیس افسران کی تقرری کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک اہم فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ نے ہفتے کے روز خیبر پختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے صوبائی حکومت کی اس کوشش کو غیر آئینی قرار دیا جس کے تحت سینئر پولیس افسران کی تقرری کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا، اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات پولیس فورس کو ایک سیاسی آلہ بنا سکتے ہیں۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی جانب سے تحریر کردہ 28 صفحات پر مشتمل فیصلے میں بیرسٹر محمد یوسف خان کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ غیر سیاسی اور عملی طور پر خودمختار پولیس فورس محض ایک ترجیح نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے، جو بنیادی حقوق کے تحفظ، منصفانہ ٹرائل کی ضمانت اور قانون کے سامنے برابری کے اصول کے لیے ناگزیر ہے۔
عدالت نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سختی سے مسترد کیا جس کے تحت انسپکٹر جنرل پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا اختیار واپس لیا گیا تھا۔ فیصلے کے مطابق آئی جی کو نظرانداز کر کے وزیر اعلیٰ کو براہ راست تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار دینا پولیس فورس کے کمانڈ اسٹرکچر کو نقصان پہنچاتا ہے۔
بنچ نے واضح کیا کہ پولیس کمانڈ کے تسلسل اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے روزمرہ انتظامی معاملات، خصوصاً تبادلے اور تقرریاں، مکمل طور پر آئی جی پولیس کے دائرہ اختیار میں رہنی چاہئیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری پولیس چیف پر عائد ہوتی ہے اور وہ صرف قانون کے سامنے جوابدہ ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ کا کردار انفرادی افسران کی تعیناتیوں میں مداخلت کے بجائے صرف وسیع پالیسی رہنمائی تک محدود ہونا چاہیے۔
پشاور ہائی کورٹ نے پالیسی نگرانی اور انتظامی مداخلت کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آئینی نظام کے تحت صوبائی حکومت کو پالیسی سمت دینے کا حق حاصل ہے، تاہم 2024 کی ترامیم نے پولیس کی آپریشنل خودمختاری کو عملاً ختم کر دیا تھا۔