یورپی یونین کے سفیر کی اپٹما قیادت سے ملاقات، جی ایس پی پلس سہولت پر مشاورت
- سہولت نے پاکستان کے گرین فیوچر اور کاربن کے صفر اخراج کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا، کامران ارشد
یورپی یونین کے سفیر رائمنڈس کروبلس نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی قیادت کے ساتھ جی ایس پی پلس سہولت سے متعلق بیرونی شعبے کی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے ہیڈ آف پولیٹیکل، ٹریڈ اینڈ کمیونیکیشن’ پیوٹر بسٹا کے ہمراہ اپٹما ہاؤس کا دورہ کیا جہاں اپٹما کے عہدیداران بشمول چیئرمین کامران ارشد، چیئرمین نارتھ اسد شفیع، ہارون الٰہی اور سیکرٹری جنرل رضا باقر سمیت ایسوسی ایشن کے دیگر سینئر اراکین نے ان کا استقبال کیا۔
یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے فائدہ اٹھانے کے لیے مختلف قوانین اور کنونشنز کے نفاذ اور قانون سازی میں پیش رفت دکھانا ہوگی۔
انہوں نے عام طور پر کاروباری برادری اور خاص طور پر برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ نہ صرف مطلوبہ کنونشنز پر عمل درآمد کے لیے فوری اقدامات کریں، بلکہ انسانی اور لیبر حقوق سے متعلق دفعات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ بھی رابطہ کاری کریں تاکہ اگلے دس سالوں کے لیے جی ایس پی پلس کی توسیع کی راہ ہموار ہو سکے۔
سفیر نے پائیداری کے مسائل پر عمل درآمد کرنے پر ٹیکسٹائل کی صنعت کی تعریف کی اور کہا کہ اس سہولت کی بحالی یا توسیع کی درخواستوں کے حوالے سے یورپی یونین کی ترجیحی فہرست میں یہ معاملہ سرِفہرست ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اورجی ایس پی پلس کی سہولت نے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو خطے میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اس سہولت کی بدولت پاکستان اپنی چار اہم مصنوعات کا 78 فیصد حصہ یورپی یونین کو ڈیوٹی فری (بغیر ٹیکس) برآمد کرنے میں کامیاب رہا، جس سے 2013 سے 2019 کے دوران پاکستان کے شیئر میں 65 فیصد اضافہ ہوا۔ اس پیشرفت کے نتیجے میں نہ صرف روزگار کے مواقع، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن ہوئی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سہولت نے پاکستان کے گرین فیوچر اور کاربن کے صفر اخراج کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ کئی ٹیکسٹائل کمپنیاں 2050 تک کاربن کا خالص اخراج صفر کرنے کی توقع رکھتی ہیں۔
پاکستان کی معاشی استحکام تک جی ایس پی پلس سہولت کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے، چیئرمین اپٹما نے کہا کہ ملک کی برآمدات مزید تنوع کے ذریعے اس سہولت سے مزید فوائد حاصل کر سکتی ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جی ایس پی پلس کی واپسی سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات منفی طور پر متاثر ہوں گی بلکہ اپنے حریف ممالک کے مقابلے میں حاصل برتری بھی ختم ہو جائے گی۔ صنعت کو سالانہ ایک ٹریلین (ایک ہزار ارب) روپے سے کم کا نقصان نہیں ہوگا اور اسے بڑے پیمانے پر بے روزگاری، ملوں کی بڑے پیمانے پر بندش اور غربت میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ڈومینو ایفیکٹ (مسلسل ردِعمل) پیدا ہوگا جو بینکنگ سیکٹر کو گرا دے گا، کیونکہ بینکوں کے 40 فیصد سے زائد قرضے ٹیکسٹائل سیکٹر نے لے رکھے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ، گڈز ٹرانسپورٹ اور اس سے جڑی دیگر صنعتیں بھی بری طرح متاثر ہوں گی، جس سے بڑے پیمانے پر بے چینی پیدا ہوگی اور ماحولیات، انسانی/مزدور/خواتین کے حقوق، انسدادِ کرپشن اور منشیات کے کنٹرول جیسے اقدامات کو شدید دھچکا لگے گا۔