اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد 100 انڈیکس تقریباً 900 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند
- بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 185,057.83 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز غیر مستحکم ٹریڈنگ دیکھی گئی، جہاں اس کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن کے دوران دونوں سمتوں میں اترا چڑھا، تاہم کاروباری دن کے اختتام پر تقریباً 900 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس نے دن کے پہلے نصف حصے میں شدید فروخت دیکھی، اور انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 182,792.40 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
تاہم سیشن کے دوسرے نصف حصے میں مارکیٹ کا جذبہ بہتر ہوا، اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 185,611.73 پوائنٹس پر چھو لیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 185,057.83 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 883.35 پوائنٹس یا 0.48 فیصد کے اضافے کے برابر ہے۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز کی بعد از مارکیٹ رپورٹ کے مطابق ”مقامی مارکیٹ نے ایک متغیر سیشن دیکھا، جس میں دن بھر محتاط ہولڈز اور منتخب خریداری کے درمیان اتار چڑھاؤ رہا۔“
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چند منتخب ہیوی ویٹس، سسٹمز، اینگروہولڈنگ، یوبی ایل اور فاطمہ ،نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو کچھ سپورٹ فراہم کی، جو مجموعی طور پر 753 پوائنٹس کا اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ تاہم ایچ بی ایل،آئی این ڈی یو، لک، ایف ایف سی اور اے آئی سی ایل میں فروخت کے دباؤ نے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس سے 416 پوائنٹس کم ہوگئے۔
بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجيب نے کہا ہے کہ ”سرمایہ کاروں کا جذباتی رجحان بہتر ہوا، جس کی وجہ تعمیری جیوپولیٹیکل پیش رفت ہے۔ امریکا اور ایران کے سرکاری بیانات میں بات چیت جاری رکھنے اور مزید کشیدگی سے بچنے کی آمادگی ظاہر کی گئی۔“
گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج مسلسل دباؤ کی زد میں رہی جہاں شرح سود سے متعلق مایوسی، بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور کمپنیوں کے توقع سے کم آمدن کے نتائج کے باعث 100 انڈیکس میں شدید مندی دیکھی گئی، تاہم بیرونی خطرات میں کمی اور حکومت کے حمایتی اقدامات کی بدولت ہفتے کے آخری سیشن میں مارکیٹ نے زبردست واپسی کی۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 4,992 پوائنٹس یا 2.6 فیصد کی نمایاں کمی سے 184,174 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی حصص بازاروں میں بھی وال اسٹریٹ فیوچرز کی پیروی کرتے ہوئے مندی کا رجحان رہا۔
قیمتی دھاتوں (سونا اور چاندی) کی تجارت میں غیر یقینی صورتحال نے ہفتے کا اعصابی آغاز کیا جبکہ یہ ہفتہ کارپوریٹ آمدنی کے نتائج، مرکزی بینکوں کے اجلاسوں اور اہم معاشی اعدادوشمار کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔
چاندی (سلور) کی قیمتوں میں ایک موقع پر مزید 5 فیصد کمی دیکھی گئی، کیونکہ گزشتہ جمعہ کو قیمتوں میں 30 فیصد کی تاریخی گراوٹ نے ان سرمایہ کاروں کو شدید متاثر کیا جنہوں نے لیوریج پر بڑی پوزیشنز لے رکھی تھیں۔
خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں بیان دیا کہ ایران، واشنگٹن کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کررہا ہے۔ اس بیان سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملے کے خطرات کم ہوئے ہیں جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔
اس بے چینی کے باعث ایم ایس سی آئی ایشیا پیسفک انڈیکس (جاپان کے علاوہ) میں 1.7 فیصد کی کمی دیکھی گئی جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ 2.2 فیصد گر گئی۔ چینی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد استحکام رہا تاہم وہاں بھی سونے سے متعلقہ انڈیکس میں مندی دیکھی گئی۔
دریں اثناء پیر کو انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی طور پر بڑھی۔ کاروبار کے بند ہونے پر مقامی کرنسی 279.76 پر طے ہوئی، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے معمولی اضافے کے برابر ہے۔
آل شیئر انڈیکس کا حجم پچھلی بندش 805.14 ملین سے کم ہو کر 740.09 ملین ہو گیا۔ حصص کی کل مالیت گزشتہ سیشن کے 50.83 ارب روپے سے گھٹ کر 42.20 ارب روپے رہ گئی۔
ایف نیٹ ایکیوٹیزحجم میں سب سے آگے رہی، جس کے 191.18 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ہیسکول پیٹرول کے 51.51 ملین اور کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 38.31 ملین شیئرز شامل ہیں۔
پیر کو مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 214 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں اضافہ، 222 میں کمی اور 51 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔