نیب سکھر کی بیراج ری ہیبلیٹیشن منصوبے کی تحقیقات شروع کرنے کی تردید
- شکایت ضرور موصول ہوئی ہے، مگر کسی قسم کی انکوائری نہیں ہورہی ہے، بیان
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سکھر اور گڈو بیراج کی بحالی کے منصوبوں میں انکوائری سے متعلق میڈیا رپورٹس پر باقاعدہ وضاحت جاری کر دی ہے۔جمعرات کو جاری بیان میں نیب نے ان منصوبوں کے فنڈز میں مبینہ خرد برد کی کسی بھی قسم کی باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کی تردید کی ہے۔
نیب سکھر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں ایک شکایت موصول ہوئی ہے، تاہم واضح کیا کہ معاملہ ابھی انکوائری یا تفتیش کے مرحلے تک نہیں پہنچا۔ بیورو نے اپنے طے شدہ طریقہ کار (ایس او پیز) کے تحت مذکورہ شکایت مزید ضروری کارروائی کے لیے سندھ چیف سیکریٹری آفس کے ’اکاؤنٹیبلٹی فیسیلیٹیشن سیل کو ارسال کر دی ہے۔
نیب حکام نے 28 جنوری کو گردش کرنے والی میڈیا رپورٹس کو بیورو کی موجودہ شمولیت کے حوالے سے ”غیر مبہم طور پر غلط معلومات“ قرار دیا ہے۔
نیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت سے عوام کو بیورو کے شفافیت کے پروٹوکول اور مروجہ قانون کے مطابق باخبر رکھا جائے گا۔
رواں ہفتے کے آغاز میں مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ نیب نے ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ(ایس بی آئی پی) کے پراجیکٹ مینجمنٹ آفس (پی ایم او) کو سکھر بیراج کے گیٹ نمبر 44 سے 59 کی تنصیب اور مالیاتی ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پی ایم او کو 26 جنوری تک یہ دستاویزات نیب سکھر میں جمع کرانے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ پی ایم او، محکمہ آبپاشی کے تحت سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کے فریم ورک کے اندر قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد گڈو اور سکھر بیراجوں کی بحالی اور جدید کاری کے کام کی نگرانی اور اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔