بھارت۔یورپی یونین تجارتی معاہدہ پاکستان کو مسابقتی نقصان میں دھکیل دے گا، پی ایچ ایم اے
- ماضی میں بھی پاکستانی برآمدات کو اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، فیصل ارشد شیخ
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین (ساؤتھ) فیصل ارشد شیخ نے مجوزہ بھارت۔یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات کو شدید مسابقتی نقصان پہنچا سکتا ہے، حالانکہ پاکستان کو یورپی یونین میں جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہے۔
انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور یورپی منڈی میں پاکستانی برآمدات کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
فیصل ارشد شیخ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت یورپی یونین میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے، جو بظاہر بھارت کو مجوزہ ایف ٹی اے کے تحت ملنے والی سہولت جیسی ہے، لیکن مسابقتی ماحول یکساں نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی جی ایس پی پلس رسائی مشروط ہے، جس کے تحت 27 بین الاقوامی کنونشنز پر دستخط، ان پر عملدرآمد اور مسلسل رپورٹنگ لازم ہے، جن کا تعلق انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، ماحولیات اور طرز حکمرانی سے ہے۔ اس کے برعکس بھارت کو ایف ٹی اے کے تحت اسی نوعیت کی سخت شرائط کا سامنا نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ان کنونشنز پر عملدرآمد طویل المدتی فوائد کا حامل ضرور ہے، لیکن اس سے پاکستانی برآمد کنندگان پر اضافی انتظامی، عملی اور مالی بوجھ پڑتا ہے، جس کے باعث صرف ٹیرف میں برابری مسابقت کو یقینی نہیں بنا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ لاگت کی مسابقت ہے۔ پاکستان میں پیداواری لاگت خطے میں پہلے ہی زیادہ ہے، جبکہ بھارت میں توانائی سستی، فنانسنگ لاگت کم، بڑے پیمانے پر پیداوار، مربوط سپلائی چینز اور بہتر لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی بدولت پیداواری اخراجات نمایاں طور پر کم ہیں۔ اس صورتحال میں بھارتی برآمد کنندگان یورپی منڈی میں زیادہ مسابقتی قیمتیں پیش کر سکتے ہیں۔
فیصل شیخ نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پاکستانی برآمدات کو اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، خصوصاً جب امریکا نے اضافی ٹیرف عائد کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کی بارہا تنبیہات کے باوجود پیداواری لاگت کم کرنے یا بنیادی مسابقتی مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث برآمد کنندگان ٹیرف کے جھٹکوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت۔یورپی یونین ایف ٹی اے اس سے بھی بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے اور اگر ماضی کی طرح غفلت برتی گئی تو پاکستان کی تجارت اور صنعت کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ فیصل ارشد شیخ نے کہا کہ پی ایچ ایم اے مسلسل اعلیٰ پالیسی سطح پر یہ خدشات اجاگر کرتی رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026