ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید بہتر
- ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 279.81 روپے پر بند
انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 279.81 روپے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 279.82 روپے پر بند ہوئی تھی۔
عالمی سطح پر ڈالر اعتماد کے بحران کا شکار رہا اور بدھ کو چار سال کی کم ترین سطح کے قریب جدوجہد کرتا نظر آیا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈالر کی حالیہ کمزوری کو نظر انداز کردیا جس نے ڈالر کی فروخت کے رجحان کو مزید تیز کردیا اور اس کے نتیجے میں ین، یورو اور اسٹرلنگ کی قدر میں اضافہ ہوا۔
یورو نے 2021 کے بعد پہلی بار 1.2 ڈالر کی حد عبور کی اور 1.2015 ڈالر پر رہا جو کہ دن کے آغاز کے مقابلے میں معمولی سا کمزور تھا،جبکہ ایشیائی مارکیٹ کے ابتدائی اوقات میں پاؤنڈ اسٹرلنگ بھی 1.3823 ڈالر کے ساتھ 2021 کے بعد اپنی بلند ترین سطح کے قریب تھا۔
ڈالر انڈیکس 95.964 پر رہا۔ اس سے پچھلے سیشن میں انڈیکس میں 1 فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی تھی جب یہ چار سال کی کم ترین سطح 95.566 پر آ گرا تھا۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں ڈالر کی قدر میں بہت زیادہ کمی آ گئی ہے تو منگل کو انہوں نے جواب دیا کہ ڈالر کی قیمت بہترین ہے۔ تاجروں نے ان کے اس بیان کو ڈالر (گرین بیک) کی بڑے پیمانے پر فروخت کا اشارہ سمجھا۔
ٹرمپ کے تبصرے بالکل نئے تو نہیں تھے لیکن یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب ڈالر پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا، کیونکہ تاجر جاپانی ’ین‘ کو مستحکم کرنے کے لیے امریکی اور جاپانی حکام کی جانب سے کرنسی مارکیٹ میں ممکنہ مشترکہ مداخلت کی توقع کر رہے تھے۔
ڈالر کی قدر میں 2025 کے دوران 9 فیصد سے زائد کی گراوٹ آئی اور رواں سال کا آغاز بھی کمزوری کے ساتھ ہوا ہے جہاں جنوری میں ہی اس کی قدر میں تقریباً 2.3 فیصد کمی ہوچکی ہے۔ اس کی وجوہات میں تجارت اور عالمی سفارت کاری کے حوالے سے ٹرمپ کا غیر متوقع (غیر مستقل مزاج) رویہ، فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کے بارے میں خدشات اور عوامی اخراجات میں بھاری اضافے شامل ہیں، جنہوں نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا ہے۔