پاکستان

اسلام آباد کی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 17 سال قید کی سزا سنا دی

  • ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا
شائع January 24, 2026 اپ ڈیٹ January 24, 2026 07:11pm

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ہفتے کے روز وکیل اور سوشل ایکٹیوسٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو متنازع ٹویٹس کے کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ بات آج نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالتی حکم کے مطابق ایمان اور ہادی کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے مختلف دفعات کے تحت سزا دی گئی۔

عدالت نے وکیل اور سوشل ایکٹیوسٹ ایمان اور ان کے شوہر کو دفعہ 10 کے تحت ہر ایک کو 10 سال قید اور 30 ملین روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ علاوہ ازیں، دونوں کو دفعہ 9 کے تحت پانچ سال قید اور 5 ملین روپے جرمانہ اور دفعہ 26-A کے تحت دو سال قید اور 1 ملین روپے جرمانہ دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ملزمان کی جانب سے کیے گئے متنازعہ ٹویٹس سنگین نوعیت کے جرائم میں آتے ہیں، جن میں کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اظہار رائے کے نام پر قانون کی خلاف ورزی قابل اجازت نہیں۔

فیصلے کے بعد عدالت کے اردگرد سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز اور نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی ( این سی سی آئی اے ) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ جج نے نوٹ کیا کہ آج حتمی دن ہے اور ہائی کورٹ کے حکم کے تناظر میں کراس ایگزامینیشن مکمل کی جائے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے وکیل اور سوشل ایکٹیوسٹ ایمان اور ان کے شوہر کو جمعہ کو گرفتار کیا۔ دونوں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں سفر کر رہے تھے جب پولیس نے انہیں سیرینا چوک انڈر پاس کے قریب روکا اور گرفتار کیا۔ دونوں افراد متنازع ٹویٹس کے کیس میں ملزم ہیں۔