سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کمپنیوں کے مالیاتی اثاثوں پر آئی ایف آر ایس 9 کے تقاضوں کی وضاحت کردی۔
ایس ای سی پی نے یہاں ایک (ایس آر او.25(I)/2026) جاری کردیا ہے۔
(ایس آر او .25(I)/2026) کے مطابق ایس ای سی پی بذریعہ ہذا یہ نوٹیفائی کرتا ہے کہ ایسی کمپنیاں جن کے مالیاتی اثاثے گردشی قرضوں کی مد میں حکومتِ پاکستان سے واجب الوصول ہیں یا بالآخر حکومت نے ادا کرنے ہیں، ان اثاثوں پر آئی ایف آر ایس 9 (مالیاتی آلات) کے تحت متوقع کریڈٹ نقصانات کے طریقہ کار کے اطلاق کے تقاضے لاگو نہیں ہوں گے۔ یہ استثنیٰ 31 دسمبر 2026 یا اس سے پہلے ختم ہونے والے مالی سالوں کے لیے کارآمد ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ بشرطیکہ ایسی کمپنیاں استثنیٰ کی مدت کے دوران مذکورہ بالا مالیاتی اثاثوں کے حوالے سے آئی اے ایس 39 (مالیاتی آلات: شناخت اور پیمائش) کے متعلقہ تقاضوں کی پیروی کریں گی۔