دنیا

جاپانی عدالت نے سابق وزیراعظم شنزو آبے کے قاتل کو عمر قید کی سزا سنا دی، جاپانی میڈیا کی رپورٹ

  • استغاثہ نے گزشتہ ماہ عمر قید کی سزا کی استدعا کرتے ہوئے اس اقدام کو انتہائی سنگین واقعہ قرار دیا تھا جس کی جنگ کے بعد کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی
شائع January 21, 2026 اپ ڈیٹ January 21, 2026 01:32pm

جاپانی میڈیا (این ایچ کے) کے مطابق نارا ڈسٹرکٹ کورٹ نے 45 سالہ تیتسویا یاماگامی کو سابق وزیراعظم شنزو آبے کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی۔ یاماگامی نے جولائی 2022 میں نارا شہر میں انتخابی مہم کے دوران گھریلو ساختہ بندوق سے آبے کو نشانہ بنایا تھا، جس سے جاپان کی جنگ کے بعد کی تاریخ کا یہ سنگین ترین واقعہ پیش آیا۔

مجرم نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ اقدام اپنی والدہ کی جانب سے یونیفیکیشن چرچ کو بھاری عطیات دینے کے نتیجے میں ہونے والی مالی تباہی کے انتقام میں کیا۔ اس کا ماننا تھا کہ آبے کے اس گروپ سے قریبی روابط تھے۔

استغاثہ نے اسے سنگین واقعہ قرار دیتے ہوئے عمر قید کی استدعا کی تھی، جبکہ وکلاء صفائی نے خاندانی حالات کے پیش نظر سزا 20 سال تک محدود کرنے کی درخواست کی تھی۔

شنزو آبے جاپان کے طویل ترین عرصے تک رہنے والے وزیراعظم تھے (3,188 دن)۔ ان کی ہلاکت کے بعد حکمراں جماعت ایل ڈی پی کے چرچ کے ساتھ تعلقات سامنے آئے، جس سے پارٹی کی مقبولیت کو شدید دھچکا پہنچا۔ آبے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انتہائی قریبی مراسم تھے، جن کا حوالہ موجودہ وزیراعظم ثنائے تاکائیچی اب بھی اپنے سفارتی تعلقات میں دیتی ہیں۔