گھریلو سروے کے نتائج
- 2024-25 کے ایچ آئی ای ایس کی بنیاد پر صوبوں کے درمیان فی کس گھریلو آمدن کے فرق کی نشاندہی کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں فی کس آمدن رپورٹ شدہ قومی اوسط سے 9.8 فیصد زیادہ ہے
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس) نے حال ہی میں ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے ( ایچ آئی ای ایس) کے نتائج جاری کیے ہیں۔ یہ سروے 2024-25 کے دوران ملک بھر کے مختلف علاقوں میں 32,814 گھرانوں کے طبقاتی بے ترتیب نمونہ پر کیا گیا۔ اس طرح نمونہ لینے کا تناسب تقریباً ہر 1,250 گھرانوں میں سے ایک نمونے کے برابر بنتا ہے۔
یہ سروے چھ سال کے وقفے کے بعد کیا گیا ہے، کیونکہ آخری ایچ آئی ای ایس 2018-19 میں منعقد ہوا تھا۔ اس سے قبل یہ سروے دو سے تین سال کے وقفے سے زیادہ باقاعدگی کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔ لہٰذا 2024-25 کا ایچ آئی ای ایس خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ان گھرانوں کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جو 2019-20 میں کووڈ-19، 2022-23 کے تباہ کن سیلاب اور 2022-23 اور 2023-24 کے دوران جی ڈی پی میں محدود نمو کے ساتھ انتہائی بلند مہنگائی کے ادوار سے گزر چکے ہیں۔
اہمیت کا پہلا اشاریہ 2018-19 اور 2024-25 کے درمیان حقیقی فی کس گھریلو آمدن میں تبدیلی ہے۔ 2024-25 میں اوسط ماہانہ برائے نام گھریلو آمدن 82,179 روپے رپورٹ کی گئی ہے، جبکہ اوسط گھریلو حجم تقریباً 6 افراد پر مشتمل ہے۔ اس طرح فی کس آمدن 13,742 روپے بنتی ہے۔
2018-19 میں اس کے مقابلے میں یہ مقدار 6,658 روپے تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برائے نام فی کس آمدن میں مجموعی طور پر 106 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
تاہم کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی ) میں 2018-19 سے 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 125.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں 2018-19 کی قیمتوں پر حقیقی فی کس گھریلو آمدن 2024-25 تک کم ہو کر ماہانہ 6,099 روپے رہ گئی ہے۔ مجموعی طور پر یہ کمی 8.4 فیصد بنتی ہے۔ یوں اوسطاً پاکستان کے گھرانے 2024-25 میں 2018-19 کے مقابلے میں نمایاں طور پر بدتر معاشی حالت میں ہیں۔
یہ صورتِ حال پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے نیشنل انکم اکاؤنٹس کے تخمینوں کے بالکل برعکس ہے، جن کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے دوران حقیقی فی کس جی این آئی میں 8.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ فرق ایچ آئی ای ایس میں رپورٹ کی گئی 8.4 فیصد کمی کے مقابلے میں خاصا نمایاں ہے۔
یہ تفاوت غیر معمولی حد تک زیادہ ہے اور اس کی وضاحت پی بی ایس کو کرنا ہوگی۔ واضح طور پر زیادہ آمدن والے گھرانے گھریلو سروے میں اپنی آمدن کم ظاہر کرتے ہیں یا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں، تاہم یہ عنصر تمام ایچ آئی ای ایس میں مشترک رہا ہے۔
2024-25 کے ایچ آئی ای ایس کی بنیاد پر صوبوں کے درمیان فی کس گھریلو آمدن کے فرق کی نشاندہی کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں فی کس آمدن رپورٹ شدہ قومی اوسط سے 9.8 فیصد زیادہ ہے۔
دیگر تینوں صوبوں میں فی کس آمدن قومی اوسط سے کم ہے، جن میں سندھ میں 5.7 فیصد، خیبر پختونخوا میں 12.2 فیصد اور بلوچستان میں 30.3 فیصد کمی سامنے آتی ہے۔ بلوچستان کی نسبتاً پسماندگی واضح طور پر نمایاں ہے۔
مزید برآں شہری اور دیہی علاقوں میں فی کس آمدن کے رجحانات کے فرق کو بھی ناپا گیا ہے۔ شہری فی کس آمدن میں کمی نسبتاً زیادہ، یعنی 13.8 فیصد رہی، جبکہ دیہی فی کس آمدن میں یہ کمی 5.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
حالیہ برسوں میں صنعتی شعبے کا جمود واضح طور پر شہری آمدن پر غیر متناسب طور پر منفی اثر ڈالنے کا باعث بنا ہے۔
اگلا سوال پاکستان میں گھرانوں کے درمیان عدم مساوات میں آنے والی تبدیلی سے متعلق ہے۔ اس کی پیمائش مجموعی آمدن میں سب سے بالائی پانچویں حصہ کے حصے اور نچلے دو پانچویں حصوں کے مشترکہ حصے کے تناسب سے کی جاتی ہے۔
2024-25 کے لیے یہ تناسب 2.21 جبکہ 2018-19 میں 2.06 تھا۔ اس طرح 2018-19 سے 2024-25 کے دوران آمدنی کی عدم مساوات میں مجموعی طور پر 7.3 فیصد نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شہری علاقوں میں یہ اضافہ کہیں زیادہ واضح ہے، جہاں عدم مساوات میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم مثبت پہلو یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں آمدنی کی عدم مساوات میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ واضح طور پر شہری گھرانوں کے درمیان عدم مساوات کم کرنے میں ڈائریکٹ ٹیکس رجیم ناکام رہا ہے۔
2024-25 کے ایچ آئی ای ایس سے سامنے آنے والا ایک انتہائی حیران کن انکشاف مختلف پانچویں حصوں میں بجٹ کی پوزیشن سے متعلق ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کم آمدنی والے حصوں میں بچت کی شرح درحقیقت زیادہ ہے۔ نچلے پانچویں حصہ میں بچت کی شرح آمدن کا 7.8 فیصد اور دوسرے پانچویں حصہ میں 6.1 فیصد رپورٹ کی گئی ہے۔ درمیانی آمدن والے تیسرے پانچویں حصہ میں یہ شرح 8.8 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتی ہے۔ اس کے بعد چوتھے پانچویں حصہ میں یہ کم ہو کر 5.4 فیصد اور سب سے بالائی پانچویں حصہ میں محض 1.4 فیصد رہ جاتی ہے۔
بظاہر پاکستان میں زیادہ آمدنی والے گھرانے شاہانہ طرزِ صرف کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس کے باعث قومی بچت کی شرح کم رہتی ہے۔ کم آمدنی والے گھرانوں کی نسبتاً زیادہ بچت غالباً مستقبل میں بے روزگاری یا خود روزگار میں آمدن کے نقصان کے خطرے کے خلاف ایک حفاظتی حکمتِ عملی ہے۔
آمدنی کے مختلف ذرائع کے حصوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ اجرتوں اور تنخواہوں کا حصہ معمولی بڑھ کر 42 فیصد ہو گیا ہے۔ مثبت پیش رفت یہ ہے کہ سماجی انشورنس اور تحائف کا حصہ 2018-19 میں 5.2 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 8.4 فیصد ہو گیا ہے۔ غالباً یہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کوریج میں توسیع کا عکاس ہے۔ اسی طرح بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک ترسیلاتِ زر کے حصے میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 8.6 فیصد سے بڑھ کر 11.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
روزگار کی حیثیت کے لحاظ سے تقسیم بھی پانچویں حصوں کے درمیان ایک قدرے غیر متوقع رجحان ظاہر کرتی ہے۔ بالائی آمدنی والے پانچویں حصوں میں خود روزگار افراد کا حصہ زیادہ اور ملازمین کا حصہ کم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ آمدنی خود روزگار سے وابستہ خطرات کے بہتر انتظام کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔
آخر میں پانچویں حصوں کے لحاظ سے حقیقی فی کس غذائی اخراجات کی سطح کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے نچلے پانچویں حصہ میں یہ 7.5 فیصد، دوسرے پانچویں حصہ میں 5.2 فیصد اور تیسرے پانچویں حصہ میں 3 فیصد کم ہوئی ہے، جبکہ بالائی دو پانچویں حصوں میں غذائی اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کم از کم غذائیت کو ممکن بنانے کے لیے درکار غذائی اخراجات کی سطح ہی خطِ غربت کی بنیاد بنتی ہے۔ نچلے تین پانچویں حصوں میں حقیقی فی کس غذائی اخراجات میں کمی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران غربت کی شرح میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔
مجموعی طور پر 2024-25 کے ایچ آئی ای ایس کے نتائج تشویش ناک نوعیت کے ہیں۔ یہ حقیقی فی کس آمدن میں 8.4 فیصد کی بڑی کمی کی نشاندہی کرتے ہیں، جو قومی آمدنی کے تخمینوں کے برعکس ہے جہاں 8.7 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ واحد صوبہ جہاں حقیقی فی کس آمدن قومی اوسط سے زیادہ ہے، پنجاب ہے۔
خصوصاً بلوچستان میں فی کس آمدن قومی اوسط سے تقریباً 30 فیصد کم ہے۔ اسی طرح دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں حقیقی فی کس آمدن میں نمایاں کمی واقع ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
مزید یہ کہ شہری علاقوں میں آمدنی کی عدم مساوات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں عدم مساوات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایک نہایت غیر متوقع نتیجہ یہ ہے کہ بالائی پانچویں حصوں میں بچت کی شرح کم ہے۔
آخرکار نچلے تین پانچویں حصوں میں حقیقی فی کس غذائی اخراجات میں تیز کمی بنیادی ضروریات کے طریقۂ کار کے تحت گزشتہ چند برسوں میں غربت کی شرح میں بڑے اضافے کی تصدیق کرتی ہے، اگرچہ ملک میں سماجی تحفظ میں کسی حد تک اضافے کے شواہد بھی موجود ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026