کاروبار اور معیشت

دسمبر میں ریئر انڈیکس کم ہوکر 103.73 پر آ گیا

  • ریئر کا 100 سے اوپر ہونے کا مطلب ملک کی برآمدات غیر مسابقتی ہوگئی جبکہ درآمدات سستی ہوگئی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) دسمبر 2025 میں گرکر 103.73 پرآ گیا جب کہ نومبر 2025 میں یہ (ترمیم شدہ) سطح 104.88 تھی۔

اگر ریئر 100 سے اوپر ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کی برآمدات غیر مسابقتی ہیں جب کہ درآمدات سستی ہوگئی ہیں۔ جب ریئر 100 سے نیچے ہوتا ہے تو صورتحال اس کے برعکس ہوجاتی ہے۔

اسٹیٹ بینک کےمطابق دسمبر 2025 میں ریئر میں ماہانہ بنیاد پر تقریباً 1.09 فیصد کمی دیکھی گئی۔

دسمبر 2024 کے مقابلے میں ریئر کی قدر میں 0.06 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا جو اس وقت 103.67 کی سطح پر تھی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق دسمبر 2025 میں پاکستان کا ریئر کم ہوکر 103.73 پر آ گیا تاہم یہ گزشتہ 10 سال کی اوسط سطح (103.0) سے اب بھی زیادہ ہے۔ ادارے نے مزید وضاحت کی کہ ریئرمیں اضافہ، یعنی 100 سے زائد کی سطح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مقامی کرنسی کی قدر اپنے ساتھی ممالک کی کرنسیوں کے مقابلے میں ضرورت سے زیادہ ہورہی ہے۔

دریں اثنا اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ریئر انڈیکس کی 100 کی سطح کو کرنسی کی توازن کی قدر کے طور پر غلط نہیں سمجھنا چاہیے۔

مرکزی بینک نے اس موضوع پر ایک وضاحتی نوٹ میں کہا کہ ریئر کا 100 کی سطح سے دور ہونا محض 2010 میں اس کی اوسط قدر کے مقابلے میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا توازن کی قدر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی دوران، نامینل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (نیئر) انڈیکس میں دسمبر 2025 کے دوران ماہانہ بنیادوں پر 0.54 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ نومبر 2025 کے 38.18 سے گر کر 37.97 (عارضی قدر) پر آ گیا۔

سالانہ بنیادوں پر نیئر انڈیکس میں دسمبر 2024 کی قدر (39.15) کے مقابلے میں 3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔