دنیا

انڈونیشیا میں لاپتہ طیارے کا ملبہ مل گیا،11 مسافروں کی تلاش جاری

  • یہ اے ٹی آر 42-500 ٹربو پروپ طیارہ، جو انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ گروپ کی ملکیت ہے
شائع January 18, 2026 اپ ڈیٹ January 18, 2026 12:00pm

انڈونیشیا کے حکام نے اتوار کے روز بتایا کہ انہوں نے جنوبی سولاویسی صوبے میں دھند سے ڈھکے پہاڑ کے قریب ایک ماہی گیری نگرانی کے طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا ہے، تاہم طیارے میں سوار 11 افراد کی تلاش جاری ہے۔

یہ اے ٹی آر 42-500 ٹربو پروپ طیارہ، جو انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ گروپ کی ملکیت ہے، نے ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب ماروس علاقے میں ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کھو دیا۔ طیارے میں آٹھ عملے کے ارکان اور تین مسافر سوار تھے۔ مسافر وزارت بحری امور اور ماہی گیری کے عملے کے رکن تھے، کیونکہ طیارہ ماہی گیری کی فضائی نگرانی کے لیے کرایہ پر لیا گیا تھا۔

جنوبی سولاویسی کے ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد عارف انور نے مقامی ٹی وی پر کہا کہ ملبہ ملنے کے بعد 1,200 افراد کو غائب عملے اور مسافروں کی تلاش کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح متاثرین کی تلاش ہے اور امید کرتے ہیں کہ کچھ افراد کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے گا۔

طیارہ یوگیاکارتا صوبے سے روانہ ہونے کے بعد مکا سّر کی جانب جا رہا تھا جب اس سے رابطہ منقطع ہوا۔ اتوار کی صبح، مقامی ریسکیو حکام نے ماروس علاقے میں بلوساراؤن پہاڑ کے ارد گرد مختلف مقامات پر ملبہ دریافت کیا، جو جکارتہ سے تقریباً 1,500 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

ریسکیو ایجنسی کے اہلکار آندی سلطان نے بتایا کہ ہمارے ہیلی کاپٹر عملے نے صبح 7:46 بجے طیارے کے شیشے کے ملبے کو دیکھا، اور 7:49 بجے طیارے کے بڑے حصے، ممکنہ طور پر فیوزلاج، دریافت کیے۔ انہوں نے کہا کہ طیارے کی دم بھی پہاڑ کی ڈھلان کے نیچے دیکھی گئی۔ تلاش کو گھنے دھند اور پہاڑی علاقے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

ویڈیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ طیارے کا شیشہ پہاڑ پر بکھرا ہوا تھا اور اردگرد شدید دھند اور تیز ہوا تھی۔ انڈونیشیا کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی کمیٹی حادثے کی تحقیقات کرے گی۔ حادثے کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے، تاہم ماہرین کے مطابق زیادہ تر حادثات کئی عوامل کے مجموعے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔