پاکستان

معاشی بحالی کے لیے سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے ، اسحاق ڈار

  • وزیر خارجہ کا عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طرزِ حکمرانی پر زور
شائع January 14, 2026 اپ ڈیٹ January 14, 2026 06:21pm

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی کا دارومدار پالیسیوں کے تسلسل اور ایسے ادارہ جاتی استحکام پر ہے جو سیاسی چکروں (پولیٹیکل سرکلز) سے بالاتر ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار ترقی قلیل مدتی یا بے ترتیب اقدامات سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔

اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ: درست سمت کا تعین، پاکستان کی معاشی بحالی کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ معیشت کی بحالی کا مطلب ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی، مستقل پالیسی سازی اور ادارہ جاتی تسلسل کے ذریعے اس کی ڈھانچہ جاتی بنیادوں کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درست سمت کا تعین معیشت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا نتائج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیاں انتخابی ادوار کے ختم ہونے کے باوجود برقرار رہیں۔ اسحاق ڈار نے عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی اب معاشی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ تمام سفارتی کوششیں برآمدات بڑھانے اور معاشی مفادات پر مبنی باہمی شراکت داری قائم کرنے میں کاروباروں کی مدد کے لیے وقف ہیں۔

اس ڈائیلاگ میں سینئر پالیسی سازوں، کارپوریٹ رہنماؤں، ماہرینِ معاشیات اور ترقیاتی ماہرین نے شرکت کی ،تاکہ اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی مضبوطی پر غور کیا جا سکے۔ اس تقریب کا انعقاد ’پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل(پی آر اے سی) نے کارپوریٹ پاکستان گروپ(سی پی جی ) اور نٹس شیل گروپ کے اشتراک سے کیا تھا۔

افتتاحی سیشن میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

احسن اقبال نے زور دیا کہ ملکی خوشحالی کے لیے قلیل مدتی استحکام اور طویل مدتی ترقی کے درمیان توازن ضروری ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی استحکام، آبادی کے دباؤ اور موسمیاتی خطرات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ انہوں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے کرپٹو اور بلاک چین جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کو ریگولیٹ کرنے کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کیا۔

کانفرنس کے اختتام پر ریاست اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کے لیے پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے پر اتفاقِ رائے کیا گیا۔