پاکستان

سندھ حکومت کا کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف پنجاب کے ساتھ مشترکہ ’میگا آپریشن‘ کا اعلان

  • صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ ڈاکوؤں کو ہتھیار ڈالنے کا آخری موقع دیا جا رہا ہے
شائع January 7, 2026 اپ ڈیٹ January 7, 2026 07:21pm

سندھ حکومت نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ پنجاب کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف مشترکہ میگا آپریشن شروع کرے گی۔

صوبائی وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی صدارت میں سکھر اور لاڑکانہ رینجز میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ وسیع پیمانے پر کیا جانے والا آپریشن گھوٹکی سے شروع کیا جائےگا۔

صوبائی محکمہ اطلاعات کے جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس میں سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) جاوید عالم اوڈھو، ڈپٹی انسپکٹر جنرل سکھر ناصر آفتاب اور متعلقہ اضلاع کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) شریک ہوئے۔

اس موقع پر آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اورایس ایس پی گھوٹکی نے جرائم کے خلاف جاری پولیس کارروائیوں، آپریشنل پیش رفت اور اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پولیس کی نفری دریائی (کچے) اور آباد (پکا) کے دونوں علاقوں میں مکمل طور پر سرگرم اور چوکس ہے۔

فورم کو بتایا گیا کہ ڈاکوؤں کے ٹھکانے مسمار کیے جا رہے ہیں جبکہ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی جاری ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کا موثر تعاقب کیا جا رہا ہے۔ کچے کے علاقوں میں پولیس کی مسلسل موجودگی جرائم کے خاتمے کو یقینی بنا رہی ہے۔

وزیرِ داخلہ ضیاء لنجار نے مزید کہا کہ آپریشنز کے دوران غلطیاں ہو سکتی ہیں اور اگر کسی قسم کی دشواری پیش آئی تو سندھ حکومت پوری قوت کے ساتھ سندھ پولیس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء لنجار نے پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو تسلی بخش اور قابلِ تعریف قرار دیا، اور ہدایت کی کہ کچا اور پکا دونوں علاقوں سے جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

سندھ کے وزیرِ داخلہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گھوٹکی سے شروع ہونے والے ڈاکوؤں کے خلاف میگا آپریشن کے لیے درکار لاجسٹک معاونت سے متعلق سفارشات فوری طور پر پیش کی جائیں، جن میں جدید ڈرونز، اسلحہ، گولہ بارود اور گاڑیاں شامل ہوں، تاکہ بغیر کسی تاخیر کے منظوری دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشنل ضروریات اور وسائل وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اس لیے متعلقہ ادارے بروقت حکام کو آگاہ رکھیں تاکہ میگا آپریشن کسی بھی مرحلے پر متاثر نہ ہو اور ان سفاک، انسان دشمن عناصر کے خاتمے کا عمل بلا تعطل جاری رہے۔

وزیرِ داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ میگا آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ خود نگرانی کریں گے۔

اجلاس کے دوران ضیاء لنجار نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ وہ آئی جی پنجاب اور بہاولپور کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) سے ذاتی طور پر رابطہ کریں، انہیں اعتماد میں لیں اور مشترکہ میگا آپریشن کے لیے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب پولیس کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کارروائیاں جاری ہیں اور مستقبل میں بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت یہ اقدامات جاری رہیں گے۔

آئی جی سندھ نے بھی ہدایت دی ہے کہ میگا آپریشن کے لیے درکار وسائل کے بارے میں سفارشات فوراً پیش کی جائیں تاکہ سندھ حکومت کی طرف سے تمام معاونت اور منظوری کے اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ ضیاء لنجارنے کہا کہ سکھر اور لاڑکانہ رینجز کے افسران کے ساتھ تفصیلی اجلاس اور مذاکرات ہوئے ہیں اور آج سے سکھر اور لاڑکانہ اضلاع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ سے اغوا کیے گئے افراد کو پنجاب سے رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے مکمل تعاون سے بازیاب کرایا گیا ہے، جس کے لیے انہوں نے پنجاب حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ چاہے وہ بدنام زمانہ ڈاکو ہوں یا کوئی اور مجرم، قانون سب کے لیے برابر ہے اور ہر ایک کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا اور سندھ پولیس مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے؛ لہٰذا فوج کو طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکوؤں کو آخری موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈالیں اور قومی دھارے میں واپس آئیں، ورنہ انہیں ریاستی طاقت کے ذریعے ختم کر دیا جائے گا۔

آخر میں صوبائی وزیرِ داخلہ نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک صوبے میں پائیدار امن قائم نہ ہو جائے۔