انجام کو ذہن میں رکھ کر 2026 کا آغازکریں

  • کسی بھی ہدف کی تکمیل کے لیے عمل ، حقیقت اور ڈیڈ لائن کی جانچ ضروری ہے
شائع January 7, 2026 اپ ڈیٹ January 7, 2026 07:53pm

جیسے ہی سال نو کے عزائم کا تذکرہ چھڑتا ہےعام طور پر یہی الفاظ بازگشت کر رہے ہوتے ہیں۔ ”رسمی الفاظ ، عارضی لہر یا محض وقت کا ضیاع “ ، کیا لوگوں کا یہ منفی ردِعمل درست ہے؟ اس کا جواب ہاں بھی ہے اور نہیں بھی۔ ہاں اس لیے کہ نئے سال کے موقع پر عزائم تو کیے جاتے ہیں لیکن ان پر استقامت سے عمل نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ تصور شکوک و شبہات کی زد میں رہتا ہے لیکن میرا جواب نہیں بھی ہے کیونکہ یہ محض جنوری کا کوئی عارضی بخار یا وقت کی بربادی نہیں ہے جو چند ہی دنوں میں ختم ہو جائے۔ درحقیقت یہ اس سے کہیں بڑھ کر ایک شعوری انتخاب اور زندگی کو نیا رخ دینے کا نام ہے۔

پھر یہ کیا ہے؟ یہ دراصل ایک ایسا انتخاب ہے جو انسان خود کرتا ہے، ہر انتخاب کی طرح یہ بھی یا تو ایک فعال جدوجہد بن سکتا ہے یا پھر محض خواہشات کی ایک غیر فعال فہرست، اس کے پیچھے چھپا تصور اور اصول آفاقی ہے جب آپ خود یہ انتخاب نہیں کرتے کہ آپ کو کہاں جانا ہے تو حالات اور دوسرے لوگ آپ کو وہاں لے جائیں گے جہاں آپ نہیں جانا چاہتے۔ مجھے اس حقیقت کا ادراک ذرا دیر سے ہوا۔

میں شارٹ کٹس کے حوالے سے ہمیشہ شکوک و شبہات کا شکار رہی ہوں۔ مشاورتی اور تربیتی شعبے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے میں ایسی مقبول تحریروں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہوں جن کے عنوانات کروڑ پتی بننے کے 5 طریقے یا بہترین تعلقات کے 6 طریقے وغیرہ ہوتے تھے۔ میں بک اسٹور پر ایسی کتابیں لینے سے گریز کرتی تھی،وجہ یہی ہے کہ میں نے اسٹیفن کووی کی مشہورِ زمانہ کتاب انتہائی موثر لوگوں کی 7 عادات بہت دیر سے پڑھی۔ وہ بھی اس وقت جب میرے ایک شاگرد نے مجھ سے چوتھی عادت کے بارے میں پوچھا اور میں جواب نہ دے سکی۔ شرمندگی سے بچنے کے لیے میں نے بادلِ نخواستہ کتاب خریدی اور اسے پڑھنا شروع کیا۔اس نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا اور میں نے ایسی بہت سی چیزیں سمجھیں جو پہلے نہیں جانتی تھی۔جس عادت نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ دوسری عادت تھی یعنی انجام کو ذہن میں رکھ کر آغاز کریں۔ مختصر یہ کہ میں نے اس پر ورکشاپ کی اور محسوس کیا کہ یہ عادت کتنی گہری ہے۔ میں نے اپنے لیے ایک مقصدِ حیات بنایا۔ مجھے معلوم ہوا کہ میں جو کچھ کرنا چاہتی تھی، اس کا محض 20 فیصد ہی کر پا رہی تھی۔ اس احساس نے میری زندگی کا رخ بدل دیا۔ میں نے ان چیزوں کو ترجیح دینا اور منصوبہ بندی کرنا شروع کی جو میرے لیے سب سے اہم تھیں۔ یہ مشکل تھا، اس میں وقت لگا اور کام اب بھی جاری ہے۔ اس کی مجھے مالی، جذباتی اور سماجی قیمت بھی چکانی پڑی، بہت سی چیزیں غلط بھی ہوئیں لیکن اگر میں ماضی پر نظر ڈالوں تو میں آج بھی اسی انتخاب کو دہراؤں گی کیونکہ اس نے میری زندگی کو معنی اور مقصد عطا کیا ہے۔

اسی لیے میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہوں گی کہ وہ ختم ہونے سے پہلے انجام سے آغاز کریں۔ اس کا اطلاق دن، ہفتے، مہینے، سال اور پوری زندگی پر ہوتا ہے۔ایسے پیشہ ور افراد جو نئے سال کے اہداف کو مذاق سمجھتے ہیں ان سے میرا جوابی سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے کام کی جگہ پر سالانہ منصوبوں اور روزانہ یا ہفتہ وار شیڈول کے بغیر اپنے آدھے اہداف بھی حاصل کر سکتے ہیں؟ ناگزیر جواب یہ ہے کہ پہلے سے منصوبہ بندی کے بغیر ہم بمشکل 30 فیصد ہی حاصل کر پائیں گے۔

میرا اگلا سوال یہ ہے تو پھر آپ اپنی ذاتی زندگی میں بغیر کسی فعال منصوبے کے کامیابی کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ جواب عام طور پر ایک شرمندہ سی مسکراہٹ ہوتی ہے کہ ہمارے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس کے لیے بہت زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا اور بری بات یہ ہے کہ پیشہ ورانہ دنیا میں کمپنی کا احتساب ہمیں عمل درآمد پر مجبور کرتا ہے جبکہ ذاتی زندگی میں ہم خود کو اس سطح پر لانے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی کو زیادہ بامقصد کیسے بنا سکتے ہیں؟ یہاں کچھ کرنے والے کام درج ہیں۔

1.تصور کریں،محض خیالی پلاؤ نہ پکائیں: کرسکنے کے یقین اور محض خواہش کی فہرست میں فرق ہوتا ہے۔تصور کرنا دراصل اپنے مقصد کو حقیقت بنتے دیکھنے کے موجودہ تصور کے بہت قریب ہے۔ زیادہ تر بڑے ایتھلیٹ اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ وہ کس طرح میچ سے پہلے اپنے کھیل کے ایک ایک پہلو کا تصور کرتے ہیں پھر اسی کے مطابق تیاری اور مشق کرتے ہیں اور آخر کار ویسا ہی کھیل پیش کرتے ہیں۔ دوسری طرف خیالی پلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس ہوا میں اڑنے کا ایک بڑا خیال تو ہے لیکن آپ اسے عملی شکل دینے کی کوشش نہیں کر رہے۔ عملی تصور کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ انجام کو ذہن میں رکھ لیں تو اسے ایک ہدف میں بدل دیں۔ کسی بھی ہدف کی تکمیل کے لیے تین چیزیں چیک کرنا ضروری ہے جس میں عمل کی جانچ، حقیقت کی جانچ اور ڈیڈ لائن (وقت کے تعین) کی جانچ شامل ہے۔

2.ہاں کہنے کے لیے نہ کہنا سیکھیں: ہم سب کا ایک پرانا بہانہ وقت کی کمی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں وقت نکالنا پڑے گا۔ ورزش اکثر اسی بہانے کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے اور دفتر کے طویل اوقات اس میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔ میں اپنی ہر کوچنگ میں وقت کے استعمال کا تجزیہ کرنے کا کہتی ہوں اور ہر بار یہ سامنے آتا ہے کہ سوشل میڈیا، طویل لنچ وغیرہ پر روزانہ کم از کم 2 گھنٹے ضائع ہوتے ہیں۔ میرا سادہ سا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان دو گھنٹوں میں سے آدھا گھنٹہ واک، مطالعہ یا گھر والوں کو فون کرنے کے لیے نہیں نکال سکتے؟ عام طور پر جواب ہاں ہوتا ہے۔ مسئلہ وقت کی کمی کا نہیں بلکہ ہماری قوتِ ارادی کی کمی کا ہے۔ یہ مشہور قول کہ ”اپنی مشکل کا انتخاب خود کریں“ بالکل سچ ہے۔ ورزش کے لیے صبح جلدی اٹھنا مشکل ہے لیکن ایک غیر صحت مند جسم کے ساتھ بیماریوں کا مسکن بننا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ اپنی مشکل کا انتخاب خود کریں۔ سوشل میڈیا اسکرولنگ کو نہ کہنا مشکل ہے لیکن مصنوعی ذہانت (اےآئی) جیسی نئی مہارتیں نہ سیکھنا مستقبل میں مزید مشکل ہوگا۔ جیسا کہ اسٹیفن کووی کہتا ہے کہ آپ اہم چیزوں کو ’ہاں‘ تب ہی کہہ سکتے ہیں جب آپ غیر اہم چیزوں کو نہ کہنا سیکھ لیں۔

3. سیکھنے کی جستجو کریں محض تمنا نہ کریں: پُرسکون اور کامیاب زندگی گزارنے والوں کی ایک مشترکہ خوبی یہ ہے کہ وہ محض خواہشیں کرنے اور دوسروں کو الزام دینے کے بجائے کچھ نیا سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔ جب آپ کوئی ہدف طے کریں تواس کے بارے میں علم حاصل کریں۔ سوشل میڈیا اگر مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو خود کو بہتر بنانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے لیکن جب آپ گہرائی میں جاتے ہیں تو راستے نکل آتے ہیں۔ عظیم ایتھلیٹس ہمیشہ پیدائشی طور پر ہی باصلاحیت نہیں ہوتے، جیسے اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کی مثال لیں جنہوں نے کچرے کے ڈھیر پر لکڑی کی چھڑیوں سے مشق کی۔ اسی طرح میرے ایک شاگرد جو بین الاقوامی کلائنٹس کے سامنے بولنے سے قاصر تھے انہوں نے زبان کی لکنت پر قابو پانے کے لیے زبان کے نیچے پنسل رکھ کر بولنے کی مشق کی اور کامیابی حاصل کی۔

سال 2026 کو محض ایک اور عام سال بنانا ہے یا اسے ایک یادگار سال بنانا ہے اس کا بوجھ ہمارے اپنے کندھوں پر ہے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ کہنا آسان ہے اور کرنا مشکل ہے۔ یہ بالکل درست ہے لیکن زندگی کو آسان لینا ہی غیر ترقی یافتہ اور نامکمل رہنے کی ضمانت ہے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے لیکن یہ سراسر غلط ہے۔ مجھے یاد ہے جس سال میں نے اپنی زندگی میں تبدیلیاں کیں، میں بھی ایسا ہی سوچتی تھی۔ پھر میں نے ڈین زینڈرا کا یہ قول پڑھا جس نے میری سوچ بدل دی” کوئی بھی شخص ماضی میں جا کر نیا آغاز نہیں کر سکتا لیکن ہر کوئی آج سے شروع کر کے ایک نیا انجام ضرور تخلیق کر سکتا ہے“۔