اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری سینڈ باکس کے پہلے گروپ کے لیے درخواست گزاروں کو شارٹ لسٹ کر لیا
- مرکزی بینک نے تین موضوعات کے تحت درخواستیں طلب کی تھیں، جن میں ترسیلاتِ زر کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل، اوپن بینکنگ اور تاجروں کی ریموٹ آن بورڈنگ شامل ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے ریگولیٹری سینڈ باکس کے پہلے گروپ (فرسٹ کوہورٹ) کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کا اعلان کر دیا، جو کہ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات میں جدت کو فروغ دینے کے لیے اس کے ’ویژن 2028‘ کے تحت ایک اہم اقدام ہے۔
مرکزی بینک نے بتایا کہ اس نے مئی 2025 میں گائیڈ لائنز جاری کر کے ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد اگست 2025 میں پہلے گروپ کا اعلان کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک نے تین موضوعات کے تحت درخواستیں طلب کی تھیں جن میں ترسیلاتِ زر (انورڈ ریمیٹنس) کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل، اوپن بینکنگ اور تاجروں کی ریموٹ آن بورڈنگ شامل ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اس اقدام میں ریگولیٹڈ مالیاتی اداروں کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی فن ٹیک کمپنیوں نے گہری دلچسپی ظاہر کی۔ شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی بینک نے ایک اعلیٰ سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی ،تاکہ پورے عمل کی نگرانی کی جا سکے۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ درج ذیل درخواست گزاروں کو سینڈ باکس فریم ورک کے تحت اپنے مجوزہ حل کو ٹیسٹ کرنے کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا ہے
اوپن بینکنگ کے تھیم کے تحت ’نیم ایکسپوننشل فنانشل سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ‘، ’ڈیجی کھاتہ لمیٹڈ‘ اور ’سوئچ ریٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ ، تاجروں کی ریموٹ آن بورڈنگ کے تحت ’بینک آف پنجاب اور ترسیلاتِ زر کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل کے تحت ’برق فن ٹیک (پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ کے ساتھ ساتھ ’ٹیپ ٹیپ سینڈ یو کے لمیٹڈ‘ (یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی شراکت میں) شامل ہیں۔
شارٹ لسٹ کیے گئے شرکا کو منظوری کے وقت طے شدہ شرائط کے مطابق، چھ ماہ تک ایک کنٹرولڈ لائیو ماحول میں اپنے مجوزہ حلوں کی جانچ کرنے کی اجازت ہوگی۔ اسٹیٹ بینک نے اس توقع کا اظہارکیا ہے کہ ریگولیٹری سینڈ باکس ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرے گا جو تکنیکی حل تیار کرنے اور صارفین کی ضروریات کے مطابق انہیں متعارف کرانے میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے مالیاتی شعبے میں جدت اور کارکردگی کو فروغ ملے گا۔