وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وعدہ کیا ہے کہ وہ بلیو اکانومی کو ممکنہ صلاحیت سے عملی کارکردگی میں تبدیل کریں گے تاکہ اسے برآمدات میں اضافے، روزگار کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے ایک کلیدی محرک کے طور پر مستحکم کیا جاسکے۔

بلیو اکانومی پر منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے پاس اپنے سمندری وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی میں اضافے اور پائیدار معاشی ترقی کو سہارا دینے کے بہترین مواقع موجود ہیں۔

اس موقع پر گوادر پورٹ اتھارٹی، وزارت سمندری امور اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے نمائندے بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران ممبر انفرااسٹرکچر ڈاکٹر وقاص انور نے وزارت کے ابتدائی کام اور سمندری و ’بلیو اکانومی‘ کے شعبوں کی ترقی کے لیے مجوزہ روڈ میپ (منصوبہ عمل) پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل برآمدات میں اضافے اور غیر ملکی زرمبادلہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے گہرا جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ بلیو اکانومی ان مقاصد کے حصول کے ساتھ پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لئے ایک اسٹریٹجک موقع فراہم کرتی ہے۔

فورم کو دی گئی بریفنگ کے مطابق 2035 تک پاکستان کو 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے برآمدات میں تیز رفتار اضافے اور اب تک غیر استعمال شدہ شعبوں کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہوگی۔

بلیو اکانومی مچھلی، آبی زراعت، بندرگاہوں، جہاز سازی اور بحری سیاحت میں غیر ملکی زرمبادلہ پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہے، تاہم بریفنگ میں کہا گیا کہ موجودہ شعبوں میں ویلیو ایڈیشن، کولڈ چین انفرااسٹرکچر، پروسیسنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ میں موجود خلا شعبے کی آمدنی کو محدود کررہے ہیں۔

وزیر منصوبہ بندی نے اس بات پر زور دیا کہ بندرگاہوں کی ترقی (کراچی، پورٹ قاسم، گوادر)، جہاز سازی، اور گڈانی شپ یارڈ کی بحالی پر بنیادی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحری وسائل کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ایک جامع، مربوط حکمت عملی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگ اقدامات ضروری ہیں۔