دنیا

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات میں شدت آنے پر یمن کا عدن ہوائی اڈہ بند

  • سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر یمن کے ایس ٹی سی پر مملکت کی سرحد کی طرف دھکیلنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے
شائع January 1, 2026 اپ ڈیٹ January 1, 2026 10:15pm

یمن کے عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آمد و رفت روک دی گئی کیونکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی برقرار رہی، دونوں خلیجی طاقتیں جن کی رقابت یمن کے جنگ زدہ علاقے کی صورت حال کو بدل رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ آنے اور جانے والی پروازوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔

لیکن اس اقدام پر یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں کے حامی وزیرِ نقل و حمل نے سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضائی آمد و رفت کو مکمل طور پر بند کر دیا، بجائے اس کے کہ پابندیوں کی تعمیل کرے۔

متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ یمنی علیحدگی پسند فوج، سدرن ٹرانزیشنل کونسل ( ایس ٹی سی)، جس نے گزشتہ ماہ یمن کے جنوب کا بیشتر حصہ سنبھال لیا تھا، نے اس بندش کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا اور کہا کہ یہ ”اچانک عائد کی گئی نئی پابندیاں“ تھیں جو سعودی عرب نافذ کرنا چاہتا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے وزارت خارجہ نے ہوائی اڈے کی بندش پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

یہ جھگڑا یمن کے بڑھتے ہوئے بحران کا تازہ باب ہے، جس نے دونوں خلیجی تیل پیدا کرنے والی طاقتوں کے درمیان گہری دراڑ کو آشکار کیا ہے۔

سعودی عرب نے اس ہفتے متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ یمن کی سدرن ٹرانزیشنل کونسل ( ایس ٹی سی ) پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ وہ مملکت کی سرحدوں کی جانب بڑھے، اور اپنی قومی سلامتی کو “ریڈ لائن” قرار دیا، جس پر متحدہ عرب امارات نے کہا کہ وہ یمن میں باقی اپنی فورسز نکال رہی ہے۔

یہ صورتحال اس فضائی حملے کے بعد سامنے آئی جسے سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کے جنوبی بندرگاہ مکلا پر کیا، اور اتحاد نے بتایا کہ یہ ڈاک ایک ایسے مقام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا جہاں علیحدگی پسندوں کو غیر ملکی عسکری مدد فراہم کی جاتی تھی۔