لکی سیمنٹ : کارکردگی اور مستقبل کا منظرنامہ
- گزشتہ پانچ برس کا اتار چڑھاؤ ، مشکل معاشی حالات سے ریکارڈ منافع تک کا سفر
لکی سیمنٹ لمیٹڈ (پی ایس ایکس لکی) یونس برادرز گروپ کی فلیگ شپ کمپنی ہے۔ 1993 میں قائم ہونے والی لکی سیمنٹ 15.3 ملین ٹن سالانہ (ایم ٹی پی اے) کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ پاکستان میں سیمنٹ کے سب سے بڑے پروڈیوسرز اور اہم برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ لکی سیمنٹ لمیٹڈ واحد سیمنٹ مینوفیکچرر ہے جس کا کراچی پورٹ پر اپنا اسٹوریج اور لوڈنگ ٹرمینل ہے۔
تاریخی کارکردگی (2019-24)
2019 میں لکی سیمنٹ کی خالص فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 1 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا لیکن منافع کمزور رہا۔ اخراجات کے دباؤ کی وجہ سے مجموعی منافع (گروس پرافٹ) میں 17.5 فیصد کمی واقع ہوئی اور گراس مارجن 35.7 فیصد سے سکڑ کر 29.1 فیصد رہ گیا۔ اسی طرح آپریٹنگ منافع میں 19 فیصد جبکہ خالص منافع میں 14 فیصد کمی آئی جو 10.5 ارب روپے رہا اور نیٹ مارجن کم ہو کر 21.8 فیصد پر آ گیا۔ یہ پہلا سال تھا جب کمپنی کو مالیاتی لاگت (فنانس کوسٹ) کا سامنا کرنا پڑا۔
2020 ایک مشکل سال تھا جس میں مجموعی آمدنی (ٹاپ لائن) میں 12.8 فیصد کمی دیکھی گئی۔ فروخت میں کمی کے باوجود لاگت میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع 56.5 فیصد تک گر گیا اور گراس مارجن 14.5 فیصد کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ آپریٹنگ منافع 67 فیصد اور خالص منافع 68 فیصد کمی کے ساتھ 3.3 ارب روپے رہ گیا جبکہ نیٹ مارجن صرف 8 فیصد رہا۔ ورکنگ کیپیٹل کے زیادہ استعمال کی وجہ سے مالیاتی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
2021 لکی سیمنٹ کے لیے واپسی (ٹرن اراونڈ) کا سال تھا جس میں خالص فروخت میں سالانہ 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ مجموعی منافع میں 212 فیصد اضافہ ہوا جس سے گراس مارجن 30.1 فیصد تک پہنچ گیا۔اسی طرح آپریٹنگ منافع میں 334 فیصد جبکہ خالص منافع میں 321 فیصد اضافہ ہوا جو 14.1 ارب روپے رہا، یوں نیٹ مارجن دوبارہ 22.4 فیصد پر بحال ہو گیا۔ زیادہ مالیاتی اخراجات توسیعی منصوبوں کے لیے لیے گئے قرضوں کی عکاسی کر رہے تھے۔
2022 میں لکی سیمنٹ کی آمدنی میں سالانہ 28.8 فیصد اضافہ ہوا، جو حجم میں کمی کے باوجود بنیادی طور پر قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ تھا۔ مجموعی منافع میں 19 فیصد اضافہ ہوا، تاہم بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے گراس مارجن 27.8 فیصد تک محدود رہا۔ آپریٹنگ منافع 25.9 فیصد بڑھا لیکن شرح سود میں اضافے اور مالیاتی اخراجات بڑھنے کی وجہ سے خالص منافع صرف 8.7 فیصد اضافے کے ساتھ 15.3 ارب روپے رہا اور نیٹ مارجن گر کر 18.9 فیصد رہ گیا۔
2023 میں خالص فروخت میں 18.2 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک بار پھر حجم کے بجائے قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تھا۔ اخراجات کے دباؤ برقرار رہے جس سے مجموعی منافع میں اضافہ صرف 15.6 فیصد تک محدود رہا اور گراس مارجن معمولی کمی کے ساتھ 27.2 فیصد پر آگیا۔ آپریٹنگ منافع میں محض 3.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مالیاتی اخراجات تقریباً تین گنا بڑھ گئے۔ خالص منافع 10.3 فیصد کمی کے ساتھ 13.7 ارب روپے رہا۔
2024 کمپنی کے لیے ایک نمایاں سال رہا جس میں حجم اور برآمدات میں بہتری کی بدولت آمدنی میں 20.3 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی منافع 48.9 فیصد بڑھا جس سے گراس مارجن 33.7 فیصد تک جا پہنچا۔ آپریٹنگ منافع تقریباً دوگنا ہو گیا اور آپریٹنگ مارجن ریکارڈ 37.3 فیصد تک پہنچ گیا۔ اسی طرح بلند مالیاتی اخراجات کے باوجود خالص منافع 105 فیصد اضافے کے ساتھ 28.1 ارب روپے رہا اور نیٹ مارجن دوبارہ 24.4 فیصد کی سطح پر آگیا۔
مالیاتی سال 2025 میں لکی سیمنٹ
لکی سیمنٹ نے مالیاتی سال 2025 میں ٹھوس کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ مقامی طلب دباؤ کا شکار رہی لیکن کمپنی نے اپنے بڑے پیمانے، تنوع اور برآمدی لچک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین نتائج فراہم کیے۔ مجموعی(کنسولیڈیٹڈ) منافع میں سالانہ 17 فیصد جبکہ انفرادی (اسٹینڈ الون) آمدنی میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ بہتری مقامی سطح پر زیادہ سیمنٹ بیچنے کے بجائے زیادہ برآمدی حجم، مستحکم قیمتوں اور ’دیگر آمدنی میں اضافے سے حاصل ہوئی۔
مقامی سطح پر یہ سال بلاشبہ چیلنجنگ رہا۔ تعمیراتی سرگرمیوں میں مندی اور مالیاتی دباؤ کی وجہ سے مقامی سپلائی میں 6 فیصد کمی آئی اور مارکیٹ شیئر معمولی کمی کے ساتھ 16 فیصد پر آ گیا۔ تاہم برآمدات نے اس خلا کو پر کیا اور ان کے حجم میں سالانہ 53 فیصد اضافہ ہوا۔ غیر ملکی مارکیٹوں کی طرف اس منتقلی نے یقینی بنایا کہ مجموعی سپلائی میں سال بھر کے دوران 9 فیصد اضافہ ہو، جو مقامی مارکیٹ کی کمزوری کی صورت میں انتظامیہ کی حجم کو دوسرے رخ موڑنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
قیمتوں میں نظم و ضبط نے بھی مدد کی۔ مقامی سطح پر قیمتیں مستحکم رہیں اور فی ٹن اوسطاً 15.5 ہزار روپے پر برقرار رہیں۔ برآمدات سے حاصل ہونے والی رقوم بھی بہتر رہیں جس نے کمپنی کو مشکل آپریٹنگ ماحول کے باوجود اپنے مارجن کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دی۔ ایک ایسے سال میں جہاں بہت سی کمپنیاں اپنی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں لکی اپنا مقام برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔
اخراجات کے محاذ پر کمپنی نے اپنی حکمت عملی بہترین رکھی۔ کوئلے کے متنوع ذرائع (شمالی پلانٹ کے لیے مقامی اور افغان کوئلہ اور جنوبی پلانٹ کے لیے درآمدی کوئلہ) نے ایندھن کی لاگت کو قابو میں رکھا، جہاں اوسط قیمت 33 ہزار روپے فی ٹن رہی۔ اس لچک اور آپریشنل کارکردگی نے توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خلاف مارجن کو سہارا دیا۔
لکی کے بیرون ملک سیمنٹ آپریشنز نے ایک بار پھر اپنی اہمیت ثابت کی۔ عراق اور جمہوریہ کانگو میں پلانٹس اعلیٰ استعداد پر کام کرتے رہے، جس سے آمدنی کی مستقل بنیاد فراہم ہوئی اور پاکستان کی طلب پر انحصار کم ہوا۔ یہ بین الاقوامی اثاثے اب محض ایک اضافی کاروبار کے بجائے ایک مستحکم عنصر بن چکے ہیں۔ سال کی ایک اور اہم ترقی توانائی کے شعبے میں ہوئی۔ جنوبی پلانٹ میں 28.8 میگاواٹ کے ونڈ پاور پراجیکٹ کے آغاز سے اس سائٹ پر بجلی کی مجموعی کھپت کا 55 فیصد قابلِ تجدید ذرائع پر منتقل ہو گیا۔ یہ اقدام محض ظاہری نہیں بلکہ لاگت میں کمی، تعطل سے بچاؤ اور غیر متوقع گرڈ ٹیرف سے تحفظ کے لیے تھا۔
مجموعی طور پر مالیاتی سال 2025 نے لکی سیمنٹ کے ارتقاء کو مزید تقویت دی۔ کمزور مقامی طلب کے باوجود کمپنی نے ثابت کیا کہ وہ برآمدات، غیر ملکی آپریشنز اور بہتر توانائی کے آمیزے کے ذریعے اپنے منافع کا تحفظ کر سکتی ہے۔ بدلتے حالات کے مطابق ڈھلنے کی یہی صلاحیت لکی کو سیمنٹ کے شعبے میں منفرد بناتی ہے۔
مالیاتی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی اور مستقبل
لکی سیمنٹ نے مالیاتی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں شاندار نتائج دیئے، جن میں منافع میں اضافہ اور حجم میں واضح بحالی دیکھی گئی۔ مجموعی خالص منافع میں سالانہ 23 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ انفرادی آمدنی دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئی، جس میں سیمنٹ کے حجم میں 18 فیصد اضافہ اور بہتر قیمتوں کے ساتھ ساتھ دیگر آمدنی کا بڑا حصہ رہا۔
آپریشنل طور پر کارکردگی حوصلہ افزا رہی۔ مقامی سپلائی میں زبردست اضافہ ہوا جس سے مارکیٹ شیئر بڑھا، جبکہ برآمدات بھی مستحکم رہیں جہاں افریقہ کے ساتھ ساتھ امریکہ اور برازیل جیسی نئی مارکیٹوں کو بڑا حصہ بھیجا گیا۔ کمپنی نے بیرون ملک اپنے قدم مزید مضبوط کیے ہیں، عراق میں سماوہ گرائنڈنگ پلانٹ نے کام شروع کر دیا ہے اور کانگو پلانٹ میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے جہاں استعمال کی شرح پہلے ہی 90 فیصد سے زائد ہے۔ اخراجات کے انتظام پر توجہ برقرار رہی، جہاں توانائی کی نصف ضروریات قابلِ تجدید ذرائع سے پوری کی جا رہی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ سہ ماہی حجم پر مبنی بحالی اور مستحکم منافع کی عکاس ہے، جو بقیہ مالیاتی سال 2026 کے لیے ایک مثبت بنیاد فراہم کرتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026