بالآخر حکومت ایک انتہائی ضروری اسپیکٹرم کی نیلامی کے قریب پہنچ رہی ہے جو ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار اور اس کے بھروسہ مند ہونے کو بہتر بنانے کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اسپیکٹرم کی شدید کمی ہے، جبکہ ڈیٹا کا استعمال بے پناہ بڑھ چکا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے چھ لین کے ٹریفک کا بوجھ دو لین والی سڑک پر ڈال دیا جائے۔ اس کا نتیجہ واضح طور پر ’ٹریفک جام‘ (رش) کی صورت میں نکلتا ہے، جس کے منفی اثرات ہر ایک پر پڑ رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اسپیکٹرم کی اتنی کمی کیوں ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے تاریخی طور پر اسپیکٹرم کی فروخت کو محض مالیاتی آمدنی کا ایک وقتی ذریعہ سمجھا ہے جبکہ نیٹ ورک کی بہتری اور تکنیکی ترقی جیسے پہلو ہمیشہ ثانوی (کم اہمیت کے حامل) رہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے کوئی بھی کامیاب نیلامی نہیں ہوسکی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سروسز کی فراہمی بدتر ہوتی جارہی ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بالآخر یہ احساس جڑ پکڑرہا ہے کہ اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے وسیع تر معاشی فوائد، فوری مالیاتی فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔
تاہم بہت کچھ قیمتوں کے تعین اور ادائیگی کی شرائط پر منحصر ہوگا۔
حکومت 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلام کرنے پر غور کررہی ہے جو کہ موجودہ مجموعی صلاحیت سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق حکومت خوش قسمت ہوگی اگر پیش کیے جانے والے اسپیکٹرم کا نصف حصہ (آدھا) بھی کامیابی سے نیلام ہوجائے، اس سلسلے میں اہم سوالات حکومت کی طرف سے مقرر کردہ قیمت، ادائیگی کی کرنسی (ڈالر یا روپیہ) اور ادائیگی کا شیڈول ہیں۔
پیش کردہ اسپیکٹرم مختلف فریکوئنسیوں پر محیط ہے جو 700 میگا ہرٹز سے لے کر 3,500 میگا ہرٹز تک پھیلا ہوا ہے، اگرچہ اسپیکٹرم بینڈز ’ٹیکنالوجی نیوٹرل‘ (کسی بھی ٹیکنالوجی کے لیے موزوں) ہوتے ہیں، تاہم دستیاب تحقیقی مواد یہ تجویز کرتا ہے کہ دو ہزار میگا ہرٹز سے کم کے بینڈز تھری جی اور فور جی کے لیے بہتر ہیں جبکہ بلند تر بینڈز فائیو جی کے لیے زیادہ سازگار ہیں۔
آخرکار یہ خریداروں (ٹیلی کام کمپنیوں) کی صوابدید پر ہوگا کہ وہ اس سپیکٹرم کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔
ترجیح آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے کو ہونی چاہیے، اور اس کے لیے موجودہ 3G/4G نیٹ ورکس کو مضبوط بنانا انتہائی اہم ہے۔
توجہ فوری بہتری پر ہونی چاہیے۔ ایک معروف ٹیلی کام کمپنی کے سی ای او کے مطابق اسپیکٹرم کی بہتر دستیابی سے انٹرنیٹ کی رفتار میں 10 سے 20 گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ ایک اطمینان بخش بات ہے۔
ساتھ ہی ساتھ حکومت فائیو جی کے آغاز کی خبروں اور سرخیوں میں زیادہ دلچسپی لیتی نظر آتی ہے، حالانکہ اس وقت اس کا استعمال محدود ہے اور صرف چند مہنگے ہینڈ سیٹس (موبائل فونز) ہی 5G کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود، فائی جی مستقبل کا نیٹ ورک ہے، اور پاکستان کو مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے شعبوں میں ترقی کے لیے ضروری انفرااسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) تیار کرنا چاہیے۔
یہ سچ ہے کہ خواب دیکھنا اچھا ہے کیونکہ وہ ہمیں مستقبل کے مسائل کے لیے منفرد زاویہِ نگاہ یا حل فراہم کر سکتے ہیں، لیکن آج کی صلاحیتوں کو محفوظ بنانا اور ان سے فائدہ اٹھانا زیادہ اہم ہے۔
حکومت گزشتہ اٹھارہ مہینوں سے ان نیلامیوں پر غوروخوض کررہی ہے۔ اس میں ایک بڑی رکاوٹ یوفون کی جانب سے ٹیلی نار کی خریداری کی زیرِ التواء منظوری تھی، جو اب حل ہو چکی ہے۔ اب مارکیٹ میں تین بڑے کھلاڑی موجود ہیں، ڈھانچہ تیار ہے، اور اب آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔
حکومت کو نیلامی اس طرح ڈیزائن کرنی چاہیے کہ آمدنی زیادہ سے زیادہ ہو لیکن آپریٹرز پر غیر ضروری ابتدائی بوجھ نہ ڈالے۔ ساتھ ہی یہ یقینی بنایا جائے کہ آپریٹرز ٹیکنالوجی کی اپ گریڈ میں سرمایہ کاری کریں اور سب کے لیے بہتر رفتار اور نیٹ ورک معیار فراہم کریں۔
پچھلی نیلامی کی غلطیاں جب کوئی اسپیکٹرم فروخت نہیں ہوسکا تھا، دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہئیں، ساتھ ہی اس معاہدے کو اس انداز میں تشکیل دیا جانا چاہیے کہ اس کا فائدہ براہِ راست صارفین کو پہنچے۔
آپریٹرز (کمپنیوں) کو ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کا پابند کیا جانا چاہیے، جیسا کہ بھارت میں دیکھا گیا ہے، جبکہ حکومت بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں ٹیکس ریونیو اور برآمدات میں اضافے کے ذریعے اپنی وصولیاں پوری کرسکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025