کراچی کی سڑکوں پر کل سے ڈبل ڈیکر بسیں رواں دواں ہوں گی ، شرجیل میمن کا اعلان
- اورنج اور گرین لائن بی آر ٹی کو منسلک کرنے کے منصوبے کا آج افتتاح کر دیا گیا
سندھ کے وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے اورنج اور گرین لائن بی آر ٹی کے انضمام کا افتتاح کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر بدھ سے ڈبل ڈیکر بسیں چلنا شروع ہو جائیں گی۔
منگل کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ آج ہم نے اورنج اور گرین لائن بی آر ٹی کو منسلک کرنے کے منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کل سے کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں نظر آئیں گی، جس کے بعد الیکٹرک وہیکل (ای وی) بسوں کے نئے روٹس بھی شروع کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پیپلز بس سروس کا آغاز جلد ہی خیرپور، شکارپور اور ٹنڈوالہٰ یار میں بھی ہونے والا ہے۔ ان تمام منصوبوں کا مقصد عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سندھ کے لیے بسوں کی ایک بڑی کھیپ پائپ لائن میں ہے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ اورنج لائن کا روٹ ختم ہونے پر مسافروں کو دوسری بس یا رکشہ لینا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں اضافی کرایہ اور پریشانی برداشت کرنی پڑتی ہے،اسی لیے صوبائی حکومت نے اورنج اور گرین لائن کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب مسافر ایک ہی کارڈ کے ذریعے دونوں بسوں میں سفر کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بسیں سیکیورٹی کیمروں اور دیگر جدید سہولیات سے لیس ہیں۔ اس کے علاوہ گرین لائن اور اورنج لائن دونوں روٹس پر خواتین کے لیے مخصوص بسیں بھی چلائی جائیں گی۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے امید ظاہر کی کہ بی آر ٹی بسوں پر روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد 75 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں کچھ بڑے مسائل درپیش تھے لیکن اب اس پر کام شروع ہو چکا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ڈبل ڈیکر بسیں صوبے کے دیگر شہروں میں بھی لائی جائیں گی، ان بسوں کا مقصد زیادہ مسافروں کی گنجائش کے ذریعے ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ بسیں ملیر سے شارع فیصل کے روٹ پر چلیں گی۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق تقریباً چھ سے سات دہائیوں کے وقفے کے بعد کراچی جیسے گنجان آباد شہر اور پاکستان کے معاشی مرکز میں دوبارہ ڈبل ڈیکر بسیں نظر آئیں گی۔ سندھ حکومت نے چین سے 3 ارب روپے کی لاگت سے 39 بسیں درآمد کی ہیں، جن میں 5 ڈبل ڈیکر اور 34 ای وی (الیکٹرک) بسیں شامل ہیں۔ اس وقت یہ گاڑیاں کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) سے کلیئرنس کے عمل میں ہیں۔
سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) کی منیجنگ ڈائریکٹر کنول نظام بھٹو نے بتایا کہ بندرگاہ سے کلیئرنس ملتے ہی ڈبل ڈیکر بسوں کو ماڈل کالونی سے ٹاور براستہ شارع فیصل چلانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔