سوزوکی کے بارے میں بات کرنا ناگزیر ہوگیا ، بی آر ریسرچ
- حجم میں برتری مگر منافع میں کمی سوزوکی کا مستقل مسئلہ بن گیا
پاکستان میں ہر کار ساز کمپنی اسپورٹ یوٹیلیٹی وہیکل (ایس یو وی) کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ بننے کے لیے کوشاں ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے صرف چند ہی طویل عرصے تک مارکیٹ میں اپنی گرفت برقرار رکھ سکیں گی۔ اس شعبے میں اب کسی بھی نئے برانڈ کے لیے ویسی کامیابی حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے جیسی کیا، ہنڈائی، چانگان اور سازگار نے ابتدائی قدم اٹھا کر حاصل کر لی ہے، کیونکہ ان کمپنیوں نے نہ صرف درست وقت پر مارکیٹ میں جگہ بنائی بلکہ صارفین کا بھروسہ بھی جیت لیا جو اب نئے آنے والوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
سوزوکی کا فرونکس کے ذریعے اس بدلتے ہوئے رجحان میں شامل ہونا ایک اہم پیش رفت ہے، جو نہ صرف کمپنی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ ملک کا سب سے بڑا کار ساز ادارہ ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں سوزوکی کو کئی طرح کے کٹھن چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن میں سے کچھ معاشی تھے اور کچھ انتظامی، مگر اس کے باوجود ایس یو وی کی کمی کبھی بھی اس کے لیے کوئی بڑا بحران یا بقا کا مسئلہ نہیں رہی، کیونکہ اس کی اصل طاقت ہمیشہ سے دوسرے طبقات میں رہی ہے
سوزوکی کے لیے سب سے بڑا اور مستقل مسئلہ یہ رہا ہے کہ مارکیٹ شیئر اور سیلز حجم (Volume) میں غالب رہنے کے باوجود وہ اپنے منافع میں استحکام پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں سوزوکی نے انڈس موٹر کمپنی (ٹویوٹا) کے مقابلے میں اوسطاً دگنی گاڑیاں فروخت کیں، لیکن جب منافع کی بات آئی تو وہ ٹویوٹا کے مقابلے میں صرف ایک معمولی حصہ ہی حاصل کر سکی۔ مالی سال 2014 سے 2023 کے دوران جہاں ٹویوٹا نے اپنے مجموعی (Gross) اور خالص (Net) منافع کے مارجنز کو مستحکم رکھا، وہاں سوزوکی کے مارجنز مسلسل دباؤ کا شکار رہے اور اکثر اوقات معمولی یا منفی سطح تک گر گئے۔
حالیہ چند برس کے دوران سوزوکی نے فروخت کے بڑے حجم کے باوجود مالی نقصانات کا سامنا کیا، جبکہ اس کے برعکس انڈس موٹرز (ٹویوٹا) ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد بھی اربوں کا خالص منافع کماتی رہی۔ مالی سال 2023 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے ڈی لسٹ ہونے کے بعد سوزوکی کے مالیاتی اعداد و شمار اب منظرِ عام پر نہیں آتے، جس کی وجہ سے یہ کہنا مشکل ہے کہ منافع اور فروخت کے درمیان یہ عدم توازن کم ہوا ہے یا نہیں۔ تاہم گزشتہ دہائی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ مہران، بولان اور آلٹو نے کمپنی کے سیلز حجم میں تو بھرپور اضافہ کیا مگر اس کا اثر کمپنی کے حتمی منافع پر نظر نہیں آیا۔ یہی وہ پیچیدہ مالیاتی پس منظر ہے جس میں فرونکس کو لانچ کیا جا رہا ہے، تاکہ کم مارجن والے ماڈلز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
آج صرف آلٹو ملک میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت کا 25 فیصد حصہ رکھتی ہے، جبکہ ایوری، سوئفٹ، کلٹس اور ویگن آر کے ساتھ ملکر سوزوکی کا مجموعی مارکیٹ شیئر تقریباً 39 سے 40 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ خاص طور پر آلٹو کی مانگ کا یہ عالم ہے کہ وہ شو رومز پر آتے ہی فروخت ہو جاتی ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ نہ صرف اس کی نسبتاً کم قیمت ہے بلکہ اس کی بے مثال فیول ایوریج (ایندھن کی بچت) بھی ہے، جو اسے روزانہ سفر کرنے والے عام شہریوں اور کمرشل ڈرائیوروں، دونوں کے لیے پہلی ترجیح بناتی ہے۔ لیکن چونکہ ان گاڑیوں میں منافع کا مارجن پہلے ہی بہت کم ہے اس لیے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ یا کرنسی کی قدر میں کمی جیسے بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگرچہ فروخت کے بڑے حجم نے فیکٹریوں کے پہیوں کو تو متحرک رکھا لیکن کمپنی کا منافع محفوظ نہ رہ سکا۔ اگر سوزوکی اس مالیاتی بحران کا حل محض ایس یو وی یا کراس اوور لانچ کرنے میں تلاش کر رہی ہے تو یہ ایک ایسی شرط ہے جو ممکنہ طور پر غلط ثابت ہو سکتی ہے
واضح رہے کہ فرونکس روایتی ایس یو وی نہیں بلکہ ایک کمپیکٹ اربن کراس اوور کے طور پر مارکیٹ کیا جا رہا ہے، جو ہچ بیک سے اپ گریڈ چاہنے والے خریداروں کو ڈیزائن، داخلی جگہ اور کم چلانے کی لاگت فراہم کرتا ہے مگر اس کا انحصار تقریباً مکمل طور پر قیمت پر ہے اور قیمت سوزوکی کا سب سے بڑا کمزوری والا نقطہ ہے۔
فرونکس کی متوقع قیمت 60 سے 70 لاکھ روپے کے درمیان ہے جو اسے فوری طور پر ایک انتہائی مسابقتی اور متنازعہ مارکیٹ میں لا کھڑا کرتی ہے۔ اس قیمت پر خریدار محض ایک ہچ بیک سے اپ گریڈ نہیں کر رہا بلکہ وہ قائم شدہ سیڈانز اور مارکیٹ میں قدم جما لینے والے چینی و کوریائی متبادلات کے درمیان موازنہ کر رہا ہے، جو سائز، طاقت اور معیار میں کہیں بہتر نظر آتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوزوکی کی قیمتوں کی حکمتِ عملی کا دیرینہ تضاد ایک بار پھر کھل کر سامنے آتا ہے۔
سوزوکی کی حکمتِ عملی کا ایک بڑا نقص یہ ہے کہ کمپنی اکثر اپنی گاڑیوں کی قیمتیں مارکیٹ میں موجود بہتر متبادلات کے انتہائی قریب رکھ دیتی ہے۔ مثال کے طور پر سوئفٹ کی قیمت ٹویوٹا یارس کے برابر ہے، جبکہ کلٹس اے جی ایس کی نئی قیمت سوئفٹ کے اس قدر قریب پہنچ چکی ہے کہ یہ خود اپنی ہی گاڑی کی فروخت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ سوئفٹ کی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔
مزید برآں 40 سے 50 لاکھ روپے کی رینج میں دستیاب ’جاپانی مقامی مارکیٹ کی استعمال شدہ گاڑیاں سوزوکی کی مقامی چھوٹی کاروں کی قدر کو چیلنج کر رہی ہیں۔ اب فرونکس کو ایک ’ہچ بیک اپ گریڈ‘ کے طور پر مارکیٹ تو کیا جا رہا ہے مگر اس کی قیمت ایک مکمل کراس اوور والی ہے، جبکہ مارکیٹ پہلے ہی بہتر متبادلات سے بھری ہوئی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فرونکس اس قیمت پر کامیاب ہو سکے گا۔
سوزوکی پہلے بھی اس راستے سے گزر چکی ہے، کمپنی کی ویٹارا کی ناکامی کی وجہ معیار یا انجینئرنگ کی کمی نہیں بلکہ یہ تھی کہ صارفین سوزوکی کے نام پر پریمیم قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں تھے، یہ سی بی یو مرحلے پر ناکام ہوئی۔سوزوکی کی ناکامی کی تاریخ صرف ویٹارا تک محدود نہیں ہے بلکہ لیانا اور سیاز بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ لیانا کی ناکامی کی بڑی وجہ ’آفٹر مارکیٹ‘سپورٹ اور میکانکی پیچیدگیوں کے لیے مارکیٹ کا تیار نہ ہونا تھا۔ اسی طرح سیاز اپنی سادگی کے باوجود قیمتوں میں مسلسل اضافے کی نذر ہوگئی۔ان تمام مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوزوکی کا اصل مسئلہ معیار نہیں بلکہ اس کی پرائسنگ اسٹریٹجی ہے، جو برانڈ امیج اور صارفین کی توقعات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
فرونکس بلاشبہ منافع کا مارجن بڑھانے کے لیے سوزوکی کا ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مارکیٹ کا رجحان کراس اوورز کی طرف ہے، تاہم صرف قیمت بڑھا کر منافع حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا، اصل چیلنج خریداروں کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔ اگر سوزوکی نے فرونکس کو قیمت اور فیچرز کے لحاظ سے درست جگہ پر پوزیشن نہ کیا تو یہ گاڑی بھی محض ایک کوشش بن کر رہ جائے گی۔ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ یہ گاڑی سوزوکی کی پریمیم لائن اپ میں ایک منطقی اضافہ ثابت ہو، ورنہ تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ سوزوکی کی اصل قوت چھوٹی گاڑیوں (اکنامی کارز )میں اس کی بے مثال مہارت ہے اور پاکستانی مارکیٹ میں اس کا کوئی بھی حریف فی الحال اس کے قریب بھی نہیں۔ مالی سال 2023 ( ایف وائی 23) کے کٹھن حالات کے بعد یہ یقیناً آلٹو کی ریکارڈ فروخت ہی تھی جس نے سوزوکی کے ریونیو کو سہارا دیا اور اسے مستحکم آمدنی فراہم کی۔
سوزوکی کو مارکیٹ میں اپنی موجودہ پوزیشن کو مضبوط بنانا چاہیے اور اپنی اصل قوت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ جب قیمتیں خریداروں کی قوتِ خرید سے ہم آہنگ ہوں گی تو فروخت کا حجم خود بخود بڑھ جائے گا۔ پریمیم سیگمنٹ کی طرف چھلانگ لگانے اور غیر یقینی برانڈ وفاداری پر تکیہ کرنے کے بجائے سوزوکی کو نچلے طبقے میں اپنی صلاحیت، پیداواری حجم اور ’ویلیو انجینئرنگ‘ کو بہتر بنانا چاہیے۔ اگرچہ فی گاڑی منافع کا مارجن کم ہو سکتا ہے لیکن زیادہ فروخت اس کی تلافی کر دے گی۔ پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کے فقدان کے باعث چھوٹی گاڑیاں محض ضرورت نہیں بلکہ کمرشل اور ذاتی استعمال دونوں کے لیے ناگزیر بن چکی ہیں۔
دیگر ماڈلز کے لیے قیمتوں کا تعین انتہائی محتاط ہونا چاہیے۔ فرونکس کو ہچ بیک، سیڈان اور کراس اوور کے درمیان ایک پل کی طرح درست قیمت پر مارکیٹ میں لانا چاہیے۔ پاکستان میں 40 سے 70 لاکھ روپے کی رینج میں پہلے ہی کئی متبادل موجود ہیں اور اب خریدار پہلے سے کہیں زیادہ ہوشیار اور باخبر ہے۔ سوزوکی کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ وہ محض مارکیٹ کی بھیڑ کا حصہ نہ بن جائے، ورنہ اس مسابقتی دوڑ میں اس کی اپنی پہچان کھو جانے کا خدشہ ہے۔