قیمتی دھاتوں کی قیمتیں گرگئیں، چاندی 80 ڈالر فی اونس کے قریب
- قیمتوں میں کمی پرافٹ بکنگ اور جغرافیائی سیاسی صورتحال میں بہتری کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں کمی کی وجہ سے ہوئی
قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں پیر کو کمی دیکھی گئی جس میں چاندی کی قیمت اس سے قبل دن میں ریکارڈ سطح کو چھونے کے بعد 80 ڈالر فی اونس کے قریب آگئی جبکہ سونے کی قیمت بھی اپنی ریکارڈ سطح سے نیچے گرگئی۔ قیمتوں میں یہ کمی منافع کے حصول (پرافٹ بکنگ) اور جغرافیائی سیاسی صورتحال میں بہتری کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں کمی کی وجہ سے ہوئی۔
اسپاٹ گولڈ (فوری نقد قیمت) 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 4,512.30 ڈالر فی اونس پر آگیا، جبکہ گزشتہ جمعہ کو سونے کی قیمت 4,549.71 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔
فروری کی ترسیل کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 4,535.10 ڈالر فی اونس رہی۔
دوسری جانب اسپاٹ سلور (چاندی) کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 79.68 ڈالر فی اونس پر دیکھی گئی، جبکہ اسی سیشن کے دوران چاندی 83.62 ڈالر کی بلند ترین تاریخی سطح کو چھونے کے بعد تھوڑا پیچھے ہٹی تھی۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ منافع کی بکنگ اور ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر بظاہر نتیجہ خیز مذاکرات نے سونا اور چاندی پر دباؤ ڈال دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ وہ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب ہیں۔
چاندی نے سال کے آغاز سے اب تک 181 فیصد اضافہ کیا ہے جو سونے سے بہتر کارکردگی ہے، اس کی وجہ اسے امریکہ کے لیے ایک اہم معدنیات قرار دینا، سپلائی میں رکاوٹیں اور صنعتی و سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود کم موجودہ ذخائر ہیں۔
قیمتی دھاتوں نے سال 2025 میں شاندار تیزی دکھائی ہے، جس میں اب تک 72 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس دوران کئی نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔
سونے کی قیمتوں میں اضافے کو متعدد عوامل سے تقویت ملی ہے جن میں امریکہ میں مزید شرح سود میں کمی کے امکانات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، مرکزی بینکوں کی مضبوط طلب اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری شامل ہیں۔
واٹرر کا کہنا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو کے اگلے چیئرمین نے اپنی پالیسی میں نرمی کا رجحان رکھا، تو اگلے سال سونے کے لیے 5,000 ڈالر کا ہدف ممکن نظر آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شرحِ سود میں کمی، صنعتی طلب میں مسلسل اضافے اور رسد کی کمی کے باعث چاندی کی قیمت 2026 میں 100 ڈالر کی سطح کی طرف بڑھ سکتی ہے’۔
تاجروں کا خیال ہے کہ اگلے سال دو امریکی شرح سود میں کمی متوقع ہے، کیونکہ وہ فیڈ کے دسمبر اجلاس کے منٹس کے اجراء کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ مزید پالیسی کے اشارے حاصل کیے جا سکیں۔
غیر منافع بخش اثاثے عموماً کم شرح سود والے ماحول میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
اسپاٹ پلاٹینم 1.5 فیصد کم ہو کر 2,421.35 ڈالر فی اونس پر آیا، جبکہ دن کے آغاز میں یہ ریکارڈ بلند ترین 2,478.50 ڈالر تک پہنچ چکا تھا، اور پیلیڈیم 6 فیصد کی کمی کے ساتھ 1,807.59 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا۔