پاکستان نے برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے سامنے ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے پر برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈی مارش جاری کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو بتایا گیا کہ برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی سیاسی جماعت کا باقاعدہ (آفیشل) اکاؤنٹ مظاہرین کو اشتعال دلانے کے لیے استعمال کیا گیا اور احتجاج کے دوران مظاہرین نے مسلح افواج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض زبان استعمال کی۔
احتجاج کے دوران فیلڈ مارشل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور کہا گیا کہ ان کو ایک کار بم دھماکے میں قتل کردیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت نے برطانیہ کی سرزمین سے دی جانے والی دھمکیوں کا سخت نوٹس لیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے برطانیہ کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کو عدم استحکام میں دھکیلنے کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایسے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور انہیں قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
قبل ازیں، پاکستانی حکومت نے برطانیہ کی سرزمین سے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خلاف دی گئی دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ، برطانیہ میں پاکستان تحریکِ انصاف سے منسلک سوشل میڈیا سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا، جب ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر مظاہرین کی جانب سے کھلے عام فیلڈ مارشل کے خلاف موت کی دھمکیاں دیتے ہوئے دکھائی دی۔
پاکستان نے برطانیہ کی سرزمین کے تشدد کے لیے غلط استعمال کے حوالے سے ملوث افراد کی شناخت اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
23 دسمبر 2025 کو پی ٹی آئی برطانیہ کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے ایک اشتعال انگیز ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں مظاہرین فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کھلے عام قتل کی دھمکیاں دیتے ہوئے دکھائی دیے۔
ویڈیو میں ایک خاتون، جو اردو میں تقریر کررہی تھی، اشتعال انگیز تبصرے کرتی سنائی دی جس میں کار بم حملے کے ذریعے انہیں نشانہ بنانے کا حوالہ بھی شامل تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025