امریکا کا پاکستان کے فوجی دستے غزہ بھیجنے پر غور کرنے کی پیشکش کا خیرمقدم
- امریکا پاکستان کا شکر گزار ہے کہ اس نے اس فورس کا حصہ بننے یا کم از کم اس پر غور کرنے کی پیشکش کی ہے، مارکو روبیو
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں قیام امن کے لیے پاکستان کی جانب سے فوجی تعینات کرنے کی پیشکش پر شکر گزار ہے، تاہم کسی بھی ملک سے باضابطہ طور پر عزم کرنے سے پہلے مزید وضاحت درکار ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ نے پاکستان سے اس بات کی رضامندی حاصل کرلی ہے کہ وہ غزہ میں قیامِ امن اور مصالحت کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجے گا۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جن ممالک سے ہم نے وہاں (غزہ میں) موجودگی کے حوالے سے بات کی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کا مینڈیٹ (اختیارات) کیا ہوگا، مخصوص مینڈیٹ کیا ہے اور اس کا فنڈنگ کا طریقہ کار (مالی انتظام) کیسا ہوگا۔
امریکا پاکستان کا شکر گزار ہے کہ اس نے اس فورس کا حصہ بننے یا کم از کم اس پر غور کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی کئی معاملات واضح ہونا باقی ہیں، اس لیے کسی بھی ملک سے باضابطہ اور حتمی وعدہ لینے سے قبل مزید وضاحت ضروری ہے۔
اکتوبر میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ حکومت ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ غزہ میں افواج بھیجی جائیں گی یا نہیں۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہیں اور اس فورس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، اور اگر پاکستان اس پر رضامند ہوا تو وہ اس عمل میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق اگلا مرحلہ بورڈ آف پیس اور فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیکنوکریٹ گروپ کے قیام کا اعلان ہے، جو روزمرہ انتظامی امور سنبھالے گا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اس کے بعد فورس کی ذمہ داریوں، مالی وسائل، قواعد و ضوابط اور غزہ میں غیر مسلح کرنے کے کردار سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے گی۔