سابق وزیرِ خزانہ نے 2 ارب ڈالر کی بائننس ٹوکنائزیشن ڈیل پر خدشات ظاہر کردیے
- بائننس کو منتخب کرنے کے لیے کون سا عمل اختیار کیا گیا، اسد عمر
حکومت نے بائننس انویسٹمنٹس کے ساتھ 2 ارب ڈالر کے ریئر ورلڈ ایسیٹ ٹوکنائزیشن کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ اقدام پاکستان کی جانب سے خودمختار اثاثوں کی بلاک چین پر مبنی تقسیم میں پہلا باضابطہ قدم ہے، تاہم اس اقدام پر انتخابی عمل کی شفافیت اور اس منصوبے میں دنیا کی دیگر اہم عالمی اثاثہ ٹوکنائزیشن کمپنیوں کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
یہ خدشات سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اٹھائے۔
اسد عمر کے مطابق حکومت پاکستان اور بائننس کے درمیان 2 ارب ڈالر کے ریئر ورلڈ اسیٹ ٹوکنائزیشن کا معاہدہ کیا گیا۔ بائننس کو منتخب کرنے کے لیے کون سا عمل اختیار کیا گیا؟ یہ عالمی سطح پر اثاثوں کی ٹوکنائزیشن میں بڑا پلیئر نہیں اور نہ ہی اس کام کیلئے زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔
سابق وزیرِ خزانہ نے موجودہ حکومت سے سوال کیا کہ کیا اسیٹ ٹوکنائزیشن میں عالمی سطح کے بڑے پلیئرز جن میں بلیک راک، یو بی ایس، گولڈمین سیکس، جے پی مورگن اور ایچ ایس بی سی شامل ہیں، کو اس عمل میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی تھی؟
اسد عمر کے مطابق یہ پاکستان کا ڈیجیٹل ٹوکنائزیشن میں پہلا قدم ہے اور پہلی ٹرانزیکشن اعتماد اور طویل مدتی کامیابی کے لیے بنیاد قائم کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ فیصلہ سازی کا عمل شفاف طریقے سے کیا جائے۔
وزارتِ خزانہ نے جمعہ کو بائننس انویسٹمنٹس کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ مفاہمتی یادداشت پر وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور بائننس کے سی ای او رچرڈ ٹینگ کے درمیان بائننس کونسل کے مشیر چانگ پینگ ژاؤ کی موجودگی میں دستخط کئے گئے ۔