پاکستان

بھارت کے بغیر پاکستان سے علاقائی اتحاد اسٹریٹیجک طور پر ممکن ہے ، بنگلہ دیش

  • پاکستان کے ساتھ نئے علاقائی ڈھانچے کا قیام ممکن ، یہ کوشش مستقبل میں پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔ نیپال اور بھوٹان کے لیے ایسا اتحاد عملی نہیں مگر بنگلہ دیش کے لیے اسٹریٹیجک مواقع موجود ہیں ، مشیر خارجہ امور محمد توحید حسین
شائع December 11, 2025 اپ ڈیٹ December 11, 2025 01:11pm

مشیر خارجہ امور بنگلہ دیش محمد توحید حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کو شامل کیے بغیر کسی علاقائی گروپ میں شامل ہونا بنگلہ دیش کے لیے اسٹریٹیجک طور پر ممکن ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے بی ایس ایس کے مطابق انہوں نے مزید کہاکہ مگر نیپال یا بھوٹان کے لیے ایسا کرنا عملی طور پر مشکل ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد کانکلیو میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان، چین اور بنگلہ دیش پر مشتمل ایک نئی سہ فریقی پہل شروع ہو چکی ہے، جو مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک تک پھیل سکتی ہے۔ توحید حسین نے کہا کہ اسحاق ڈار کا بیان ممکنہ امکانات کی نشاندہی کرتا ہے، مگر اس پر فی الحال وہ مزید تبصرہ نہیں کر سکتے۔

اگست میں اسحاق ڈار کے دورۂ ڈھاکہ کو پاک بنگلہ تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک نے ماضی کے تنازعات سے آگے بڑھ کر تجارت، نوجوانوں و تعلیمی تبادلوں، ثقافتی روابط اور خصوصاً سارک کی بحالی پر بات چیت کی۔

چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا تھا کہ دونوں کی اقتصادی ترجیحات ہم آہنگ ہیں اور سارک ہماری مشترکہ ترجیح ہے۔

2016 سے، جب اُڑی واقعے کے بعد بھارت نے اسلام آباد میں ہونے والا سارک سربراہ اجلاس منسوخ کروا دیا تھا، یہ تنظیم مفلوج پڑی ہے۔ بھارت پاکستان کشیدگی کے باعث خطے کے دیگر ممالک کی اجتماعی کوششیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق چین کی جانب سے سارک بِن بھارت ماڈل میں دلچسپی ظاہر کیے جانے سے دوبارہ علاقائی تعاون کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ایسا ڈھانچا تجارت، رابطوں اور موسمیاتی لچک کے شعبوں میں مشترکہ فوائد پر توجہ دے سکتا ہے۔