پاکستان

پاکستان اور انڈونیشیا کا تجارت اور اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم

  • دونوں ممالک نے مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے
شائع اپ ڈیٹ

وزیرِاعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پربوو سبیانٹو نے منگل کے روز دوطرفہ تجارت میں اضافہ کرنے، صحت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور فلسطین سمیت علاقائی و عالمی امور پر رابطے کو مضبوط بناے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس میں صدر سبیانٹو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، جو اس وقت 4.5 ارب ڈالر کے قریب ہے اور اس میں 90 فیصد سے زیادہ حصہ انڈونیشیا سے پاکستان درآمد کیے جانے والے پام آئل کا ہے۔

انہوں نے انڈونیشیا کے صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے انڈونیشیا کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔

وزیرِاعظم نے یہ بھی پیشکش کی کہ پاکستان انڈونیشیا کے میڈیکل یونیورسٹیوں اور اسپتالوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈاکٹرز، ڈینٹسٹس، میڈیکل پروفیسرز اور صحت کے دیگر ماہرین بھیجے گا۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس ضمن میں جو کچھ بھی ہمارے لیے ممکن ہے، ہم اسے بغیر کسی تاخیر کے کریں گے۔

وزیرِاعظم نے غزہ کے حوالے سے انڈونیشیا کے غیر متزلزل موقف کی بھی تعریف کی اور کہا کہ انڈونیشیا کی حمایت کی وجہ سے اس خطے میں امن قائم ہوا ہے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ خدا کے فضل سے، خونریزی رک گئی ہے، تاہم اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

علاوہ ازیں وزیرِاعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ انڈونیشیا کے صدر کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو ایک نئی بلند سطح تک لے جایا جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ وہ صرف اپنے ممالک کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور امن کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

صدر سبیانٹو نے اپنے خطاب میں حکومت اور پاکستان کے عوام کا اپنے پرجوش سے استقبال پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات نتیجہ خیز رہی اور اس کے تحت تجارت، تعلیم، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں تعاون کے معاہدے ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مشترکہ اقدار اور مفادات ہیں؛ ہم دنیا کے شاید سب سے بڑے مسلم ممالک میں شامل ہیں۔ لیکن ہمارا اسلام اعتدال پسند اسلام ہے جو شمولیت اور رواداری کو فروغ دیتا ہے۔“

صدر سبیانٹو نے وزیرِاعظم اور حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انڈونیشیا میں صحت کے شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈاکٹرز، ڈینٹسٹس، میڈیکل پروفیشنلز اور دیگر متعلقہ ماہرین بھیجنے کی آمادگی ظاہر کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے وزراء کو ہدایت دی ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تجارتی تعلقات کو بہتر اور برابری کی سطح پر لانے کیلئے عملی اقدامات جلد مکمل کئے جائیں اور وزیرِاعظم کو یقین دلایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام شعبوں میں جتنا جلد ممکن ہو پیش رفت کریں۔

پاکستان اور انڈونیشیا کے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط

مزید برآں وزیرِاعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر نے مفاہمت کی سات یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوتے ہوئے دیکھے، جو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے کیے گئے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ ایم او یوز اور معاہدے درج ذیل شعبوں میں تعاون پر محیط ہیں: اعلیٰ تعلیم، انڈونیشیا کے ریاستی اسکالرشپ کے لیے گرانٹ پروگرام، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے فروغ کے لیے کاروباری سہولت کاری، قومی آرکائیوز کے درمیان تعاون، منشیات پر قابو پانے اور غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون، حلال تجارت اور تصدیق میں تعاون اور صحت کے شعبے میں تعاون۔