وزیراعظم نے گوادر، گلگت بلتستان میں مستحکم اور پائیدار بجلی منصوبوں کی منظوری دے دی
- شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے جائزے کے لیے اجلاس کی صدارت کی
وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے جامع منصوبے کے فوری نفاذ کی منظوری دی، جس میں 100 میگاواٹ کا سولر منصوبہ بھی شامل ہے ،تاکہ بے روک ٹوک، سستی اور پائیدار بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے منصوبوں پر مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں ،تاکہ گوادر پورٹ سٹی کو قابلِ بھروسہ اور مناسب قیمت بجلی فراہم کی جا سکے۔
وزیراعظم نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے سولر منصوبے کے فوری آغاز کے لیے خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کہا گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح اور معاشی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ منصوبہ صاف، ماحولیاتی طور پر دوستانہ اور پائیدار بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
وزیراعظم نے کمیٹی کے سربراہ احسن اقبال اور وزارت توانائی کی سفارشات اور اقدامات کو بھی سراہا اور کہا کہ فوری، قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبوں کو جامع حکمت عملی کے مطابق موثر انداز میں نافذ کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گوادر میں بغیر روک ٹوک بجلی کی فراہمی قومی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے گی اور سرمایہ کاری کو راغب کرے گی۔ پاکستان میں صنعتوں اور سرمایہ کاروں کے لیے بجلی کی فراہمی کو علاقائی اور عالمی معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔
وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اجلاس کو بتایا کہ وزارت کی فوری کارروائیوں کے باعث گوادر میں بجلی کی فراہمی میں پہلے ہی 42 فیصد بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے اخراجات کے مسائل حل کرنے کے بعد گوادر میں فراہم کی جانے والی بجلی کے وولٹیج کو اگلے چھ ماہ میں مستحکم بنانے کا جامع منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
قلیل مدتی منصوبوں میں اگلے 8 سے 12 ماہ میں اہم سرکاری اداروں میں 9.7 میگاواٹ سولر بجلی کی تنصیب شامل ہے، جبکہ طویل مدتی منصوبوں میں گوادر کے لیے 40 میگاواٹ کا منصوبہ شامل ہے ،تاکہ پائیدار بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جاری صنعتی و اقتصادی ترقی، گوادر پورٹ کی توسیع اور شہری علاقوں میں اضافہ کے باعث آئندہ برسوں میں گوادر میں بجلی کی طلب 30 فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔