کرغزستان کے صدر کا پاکستان کا دو روزہ دورہ شروع
- صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ طور پر مہمان رہنما کا پرتپاک استقبال کیا
کرغیزستان کے صدر جاپاروف دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں نُور خان ایئر بیس پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ طور پر مہمان رہنما کا استقبال کیا، جنہیں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ وفاقی وزراء اور سینئر اہلکار بھی ایئر بیس پر موجود تھے۔
اس موقع پر روایتی لباس میں ملبوس بچے صدر جاپا روف کو پھول پیش کرنے کے لیے آئے، جبکہ انہوں نے پاکستانی قیادت کے ساتھ مختصر اور دوستانہ بات چیت کی۔
دفتر خارجہ (ایف او) نے بتایا کہ کرغز جمہوریہ کے صدر کا آخری دورہ پاکستان جنوری 2005 میں ہوا تھا۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور کرغزستان کے بھائی چارے کے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جو مشترکہ تاریخ، ایمان، اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی کی مشترکہ خواہشات پر مبنی ہیں۔
اس سے دوطرفہ تعاون کو نئی رفتار ملنے اور علاقائی و کثیرالجہتی فورمز میں تعاون کو مضبوط کرنے کی توقع ہے۔
صدر جاپاروف کے ساتھ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا جس میں کابینہ کے سینئر وزراء، اعلیٰ اہلکار اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔
صدر جاپاروف کے متوقع شیڈول میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات اور وزیر اعظم کے ساتھ وفد کی سطح کی بات چیت شامل ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں فریقین دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیں گے اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی تبادلے اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے نئے مواقع تلاش کریں گے۔
صدر جاپاروف پاکستان-کرغزستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان اور کرغزستان توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دونوں ممالک کے وزراء اس معاہدے پر دستخط کریں گے جس کا مقصد بجلی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔
یاد رہے کہ 29 نومبر 2205 کو وفاقی کابینہ نے توانائی کے شعبے میں دونوں وزارتوں کے درمیان ایم او یو کی منظوری دی تھی۔