پاکستان

بجلی مسائل کیلئے ہیلپ لائن 118 کا آغاز، ڈسکوز کے سی ای اوز کو درست ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت

  • نیا نظام بجلی شعبے میں شفافیت اور خود احتسابی کو فروغ دے گا، وفاقی وزیر توانائی
شائع November 29, 2025 اپ ڈیٹ November 29, 2025 12:57pm

وزارت توانائی نے بجلی صارفین کے مسائل کے حل کے لیے ہیلپ لائن 118 کا آغاز کر دیا۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری نے ڈسکوز کے سی ای اوز کو ہدایت کی کہ وہ سسٹم میں درست اور شفاف ڈیٹا فراہم کریں تاکہ شکایات کا بروقت ازالہ ممکن ہو سکے۔

اس ہیلپ لائن کے ذریعے صارفین بلا معاوضہ اپنی بجلی سے متعلق شکایات درج کروا سکتے ہیں، جنہیں نظام کے ذریعے ٹریک اور ٹریس کیا جائے گا۔ صارفین براہِ راست شکایات درج کروا سکیں گے، اور یہ سروس سات مختلف زبانوں میں دستیاب ہوگی۔ شکایت کے حل ہونے پر صارف کو خودکار فیڈبیک کال موصول ہوگی جبکہ اگر مسئلہ حل نہ ہو تو شکایت خود بخود دوبارہ فعال ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری نے کہا کہ یہ نیا نظام بجلی کے شعبے میں شفافیت اور خود احتسابی کو فروغ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے ہمارا ساتھ نہ دیا ہوتا تو ہم زیادہ کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ آج سے ہر ناکامی یا کوتاہی سامنے آئے گی اور متعلقہ اداروں کو اس کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ جب ذمہ داری واضح ہو جائے تو پاور ڈویژن کو فوری اصلاحی اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ شفافیت کے بغیر خود احتسابی ممکن نہیں۔ اس ہیلپ لائن کے ذریعے ہر سطح پر ہونے والی غلطیاں، حتیٰ کہ لائن مین کی بھی، سامنے آئیں گی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ متعلقہ حکام کو اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، یہ اقدام حل نہ ہونے والی شکایات سے پیدا ہونے والی مسلسل مشکلات کا بہترین حل ہے۔

ہم عوام کی کسٹمر کیئر ہیں اور عوام کی بہتر خدمت کون کر سکتا ہے؟ یہ ہیلپ لائن پورے ملک کے بجلی صارفین پر مثبت اثر ڈالے گی۔

لغاری نے سی ای اوز سے بھی اپیل کی کہ وہ اس نظام کی کامیابی کو یقینی بنائیں اور کہا کہ نظام کے مؤثر ثابت ہونے پر عملے کو انعامات بھی دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ڈسکوز اور ان کے ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر ڈیٹا میں مداخلت کی گئی تو یہ نظام بےکار ہو جائے گا۔ ہمیں عوام کو مستقل مسائل سے آزاد کرنا ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025