جی 20 ممالک کے ارب پتی ایک سالہ آمدنی سے دنیا بھر کی غربت ختم کر سکتے ہیں ، آکسفیم

  • بڑی معیشتوں کے ارب پتیوں نے گزشتہ سال 2.2 ٹریلین ڈالر کمائے جو عالمی غربت کے خاتمے کے لیے درکار رقم سے کہیں زیادہ ہے
شائع November 21, 2025 اپ ڈیٹ November 21, 2025 02:05pm

عالمی مہماتی ادارے آکسفیم نے کہا ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتوں کے ارب پتیوں نے گزشتہ سال 2.2 ٹریلین ڈالر کمائے جو کہ دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کے لیے درکار رقم سے کہیں زیادہ ہے۔ آکسفیم کے مطابق یہ رقم دنیا کے تمام غریب افراد کو خطِ غربت سے اوپر لانے کے لیے کافی تھی۔

برطانوی تنظیم نے زور دیا کہ رواں ہفتے ہونے والی جی 20 سربراہ کانفرنس کو چاہیے کہ وہ میزبانی کرنے والے ملک، جنوبی افریقہ کی اُن کوششوں کی حمایت کرے جو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور ترقی پذیر ممالک پر بڑھتے قرضوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق جی 20 میں شامل 19 ممالک کے ارب پتیوں کی مشترکہ دولت 15.6 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور صرف گزشتہ سال ان کی آمدنی میں 2.2 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔

رپورٹ نے فوربز کی فہرست کو بنیاد بنایا۔ آکسفیم کے مطابق 3.8 ارب افراد کو غربت سے نکالنے کے لیے سالانہ 1.65 ٹریلین ڈالر درکار ہیں ، یعنی ارب پتیوں کی ایک سال کی کمائی سے بھی کم ہے۔

جنوبی افریقہ نے 22 اور 23 نومبر کے سربراہی اجلاس میں ایک اہم تجویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت عدم مساوات پر ایک بین الاقوامی پینل قائم کیا جائے گا، بالکل اسی طرز پر جیسے اقوام متحدہ کا آئی پی سی سی عالمی درجہ حرارت کے خطرات پر کام کرتا ہے۔

آکسفیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امیتابھ بیہر کے مطابق اگر ایسا پینل قائم ہو گیا تو عدم مساوات کے بحران سے نمٹنے میں ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔

آکسفیم نے دنیا کے امیر طبقے پر منصفانہ ٹیکس عائد کرنے ، غربت کے خاتمے اور ماحولیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔

تنظیم نے خاص طور پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا جو جوہانسبرگ اجلاس کا بائیکاٹ کر رہا ہے اور اُس کی پالیسیوں بے لگام ٹیرف، غلط سمت کے ٹیکس مراعات اور ضروری امداد میں کٹوتیوں کو عدم مساوات میں اضافے کا سبب قرار دیا۔

ادارے نے خبردار کیا کہ 3.4 ارب لوگ ایسے ممالک میں رہتے ہیں جو صحت اور تعلیم سے زیادہ رقم قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہے ہیں۔ جی 20 کے ارکان دنیا کی 85 فیصد معیشت اور دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور جنوبی افریقہ کو امید ہے کہ افریقہ کی سرزمین پر ہونے والا پہلا جی 20 اجلاس ترقی پذیر ممالک کے مسائل اجاگر کرے گا۔