پی پی ایل نے آف شور مصنوعی جزیرے سے متعلق رپورٹس کی تردید کردی
ملک کی بڑی توانائی اور ایکسپوریشن کمپنیوں میں شمار ہونے والی پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے حالیہ میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمپنی سمندر سے زمین نکال کر ایک مصنوعی جزیرہ تعمیر کر رہی ہے۔
پی پی ایل نے اس میڈیا کوریج کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خبریں منصوبے کی تکنیکی نوعیت اور ڈیزائن کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب بعض رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ پی پی ایل ایک لانچ پیڈ بنانے کے لیے سمندر میں زمین بحال کر رہی ہے، جس سے تیل و گیس کی تلاش کی رفتار تیز ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق مبینہ مصنوعی جزیرہ سندھ کے ساحل سے 300 کلومیٹر دور واقع ہوگا۔
پی پی ایل نے جمعرات کو واضح کیا کہ زیرِ تکمیل سرگرمیاں ایک مشکل ماحول میں محفوظ ڈرلنگ کے انتظامات سے متعلق ہیں، نہ کہ کسی علیحدہ آف شور جزیرے کی تعمیر سےمتعلق ہیں۔
کمپنی نے بتایا کہ یہ تکنیکی طور پر پیچیدہ اور منفرد منصوبہ ہے اور پاکستان میں پہلی بار ایسے دلدل والے علاقے میں ڈرلنگ کی جا رہی ہے۔
فہرست شدہ کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ سیرانی بلاک کے جنوبی دلدل والے علاقے ضلع سجاول کے نزدیک واقع ہے، جو پہلے شدید آپریشنل اور رسائی کے مسائل کے باعث غیر دریافت شدہ رہا تھا۔
نوٹس میں کہا گیا کہ پی پی ایل اس علاقے میں خصوصی ٹرانزیشن زون آلات استعمال کرتے ہوئے 2 ڈی اور 3 ڈی سیسمک ڈیٹا پہلے ہی حاصل کر چکی ہے اور تعمیراتی سرگرمیاں اس وقت جاری ہیں۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ دلدلی مٹی اور جزر و مد کے اثرات کے پیش نظر رسائی کی سڑک اور ویل پیڈ کو تقریباً نو فٹ تک اونچا کیا جا رہا ہے ، تاکہ آپریشن بلاتعطل جاری رہ سکے اور اُونچی یا نیچی لہروں کا اثر کم ہو۔
ویل کا مقام مین لینڈ سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔ لوڈنگ اور اَن لوڈنگ جیٹیوں کے درمیان تقریباً 17 کلومیٹر طویل قدرتی آبی گزرگاہ کے ذریعے سامان اور آلات بارجز کے ذریعے منتقل کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ویل کی اسپاڈنگ مارچ 2026 میں متوقع ہے۔