رائے

بلوچستان، کوئلہ کی کانوں میں حادثات

  • کام کے ناصل حالات اور ضابطوں کی کمزور نگرانی زندگیوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہے
شائع November 20, 2025 اپ ڈیٹ November 20, 2025 12:01pm

پاکستان میں کوئلہ کان کنی ایک اہم صنعت ہے جو ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے اور ملک کی توانائی کی فراہمی میں نمایاں حصہ ڈالتی ہے۔ صرف بلوچستان میں کوئلہ کی ہزاروں چھوٹی کانیں ہیں جبکہ دیگر صوبوں میں تعداد محدود ہے، جنہیں زیادہ تر نجی کمپنیاں چلاتی ہیں۔ تاہم، اس اقتصادی شراکت کے انسانی قیمت بہت زیادہ ہے کیونکہ ناقص کام کے حالات اور ضابطوں کی کمزور نگرانی زندگیوں کو مسلسل خطرے میں ڈالتی ہے۔

تخمینہ ہے کہ بلوچستان کے چھ اضلاع میں 3,491 کوئلہ کانوں میں تقریباً 42,000 مزدور کام کرتے ہیں، جو روزانہ ہزاروں ٹن کوئلہ نکالتے ہیں۔ پھر بھی، ہر سال سیکڑوں مزدور جان کی بازی ہار جاتے ہیں یا مستقل معذوری کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ بے شمار دیگر مزدور غیر محفوظ ماحول کی وجہ سے دائمی سانس اور اسکلٹل بیماریوں کا شکار بنتے ہیں۔

بدقسمتی سے، سال 2025 بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہا۔ صرف جنوری سے اکتوبر تک، بلوچستان کے کوئلہ کے میدانوں میں کم از کم 53 حادثات ہوئے، جن میں تقریباً 100 مزدور جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ حقیقی اعداد و شمار اس سے زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ رپورٹنگ ناقص ہے۔

جنوری میں ہی، تین مختلف حادثات میں 15 مزدور جاں بحق ہوئے۔ 9 جنوری کو سنجدی کے علاقے میں شیخ عزیر مائن میں میتھین گیس کے دھماکے سے کان کھسک گیا، جس میں 12 مزدور جاں بحق ہوئے۔ اسی دوران، دکی ضلع میں زمین کھسکنے سے ایک جان گئی جبکہ 12 جنوری کو خوست، ہرنائی میں ایک کان میں عمارت گرنے سے دو مزدور جاں بحق ہوئے۔ مزید حادثات بھی ہوئے۔ 23 فروری کو خوست کے علاقے میں ایک اور حادثہ ہوا، جس میں ایک مزدور جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ 20 مارچ کو ایک اور حادثے میں 12 مزدور جاں بحق ہوئے جب تقریباً 240 میٹر زیر زمین کان منہدم ہو گئی اور کئی مزدور پھنس گئے۔

22 جولائی کو دکی کے میراج کوئلہ میدانوں میں زمین کھسکنے سے تین مزدور جاں بحق اور تین لاپتہ ہوئے۔ جولائی کے آخر میں ہرنائی کے جان شیر سواتی مائن میں گیس دھماکے سے چھ مزدور جھلس گئے جبکہ دو مزدور دکی کے ایک کان میں جاں بحق ہوئے۔ اگست میں، 26 اگست کو بولان ضلع کے مچھ علاقے کے ڈیگاری کول فیلڈ میں دھماکے کے نتیجے میں تین مزدور دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔ حال ہی میں 18 اور 19 اکتوبر کو زہریلی میتھین گیس کے جمع ہونے کے باعث دکی اور چملانگ میں دو دو مزدور جاں بحق ہوئے۔

یہ بار بار ہونے والے حادثات مزدوروں کے خطرناک حالات اور پاکستان میں کان کی حفاظت کی نمایاں لاپرواہی کو ظاہر کرتے ہیں۔ صوبائی قوانین جیسے بلوچستان آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2022 اور بلوچستان فیکٹریز (ترمیم) ایکٹ 2021 کے باوجود نفاذ ناکافی ہے۔ معدنیات اور کان و معدنی ترقی کے محکمے، جو مزدوروں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ معائنہ نہ ہونے، بدعنوانی، اور ناقص جوابدہی کی وجہ سے غیر محفوظ طریقے جاری رہ گئے ہیں۔

تاریخی طور پر، بلوچستان کے کانوں میں بڑے حادثات معمول رہے ہیں۔ مارچ 2011 میں سور رینج ضلع کے ایک کان میں میتھین گیس کے دھماکوں میں 45 مزدور جاں بحق ہوئے، جبکہ مئی 2018 میں سنجدی اور مارواڑ کے دو الگ مگر ایک وقت میں حادثات میں 23 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ مسلسل غفلت کا حصہ ہیں۔ اہم وجوہات میں میتھین گیس کا جمع ہونا، ناقص ہواداری، نکالنے کے پرانے طریقے، اور جدید حفاظتی آلات جیسے گیس ڈیٹیکشن اور فائر سپریشن سسٹمز کی غیر دستیابی شامل ہیں۔

ایک بنیادی وجہ عالمی حفاظتی معیار اپنانے اور ان پر عمل درآمد میں ناکامی ہے۔ پاکستان نے ابھی تک انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے سیفٹی اینڈ ہیلتھ اِن مائنز کنونشن، 1995 (C-176) کی توثیق نہیں کی، جو کان کنی کے شعبے کے لیے جامع حفاظتی اور صحت کے تقاضے متعین کرتا ہے۔ پاکستان مائن ورکرز فیڈریشن، آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز اور بین الاقوامی لیبر اداروں کی بار بار اپیلوں کے باوجود، پاکستان نے 2023 کے آغاز میں C-176 کی توثیق کرنے کا ارادہ ظاہر کرنے کے بعد کوئی پیش رفت نہیں کی۔ اس مزاحمت کی بڑی وجہ یہ خدشات ہیں کہ تعمیل سے آپریشنل اخراجات بڑھ جائیں گے، لیکن انسانی قیمت کے بڑھتے ہوئے پہلو کے سامنے یہ دلائل کمزور نظر آتے ہیں۔

توثیق کی حیثیت سے قطع نظر، تمام آئی ایل او کے رکن ممالک محفوظ اور صحت مند کام کے ماحول کو فروغ دینے کے پابند ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ان ذمہ داریوں کو مسلسل نظرانداز کرنا حکومت اور کارپوریٹ ذمہ داری میں سنگین کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ضابطوں کی ناکامی کے علاوہ، گہرے معاشرتی و اقتصادی عوامل بھی استحصال کو فروغ دیتے ہیں۔ زیادہ تر کان کن پسماندہ کمیونیٹیز سے تعلق رکھتے ہیں اور عموماً غیر رسمی طور پر معمولی اجرت پر کام کرتے ہیں، بغیر کسی معاہدے، بیمہ یا صحت کی سہولیات کے۔ اگرچہ بلوچستان ورکرز کمپنسیشن ایکٹ 2022 نافذ ہو چکا ہے، اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہواجس کی وجہ سے حادثات کے بعد متاثرہ خاندان غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

نتائج انتہائی سنگین ہیں۔ خاندان اپنے معاشی سہارا کھو دیتے ہیں اور غربت و مایوسی میں ڈوب جاتے ہیں۔ جذباتی صدمہ اور مالی عدم استحکام تکلیف میں اضافہ کرتے ہیں، جبکہ صنعت کی مجموعی ساکھ بھی خراب ہوتی ہےجو مزید سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی شراکت داریوں کو روکتی ہے جو آپریشنز کو جدید بنانے اور حفاظت بہتر کرنے میں مددگار ہو سکتی تھیں۔

اس لیے کان کنی کے شعبے میں جامع اصلاحات ضروری ہیں۔ حکومت کو حفاظتی قواعد پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے اور خلاف ورزیوں پر بغیر کسی رعایت کے جرمانہ عائد کرنا چاہیے۔ جدید آلات میں سرمایہ کاری ضروری ہے—جیسے گیس مانیٹرنگ سسٹمز، مناسب ہواداری، آگ بجھانے کے نظام اور ریسکیو سہولیات۔ کان مالکان اور مزدوروں کے لیے باقاعدہ حفاظتی تربیت اور تصدیقی پروگرام لازمی بنائے جائیں۔

عالمی بہترین عملی نمونوں سے سبق لینا ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک نے سخت نفاذ، مسلسل نگرانی اور تکنیکی جدت کے ذریعے کانوں میں ہلاکتوں کو نمایاں طور پر کم کیا ہے۔ پاکستان کو ایسے معیار اپنانے، آئی ایل او کنونشن کی توثیق کرنے اور عالمی حفاظتی پروٹوکولز کو قومی قانون میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی وقت، کان کنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے فلاحی منصوبےبیمہ، معاوضہ، اور صحت کی سہولیات مؤثر اور باقاعدہ بنائے جائیں تاکہ حادثات کی صورت میں سماجی تحفظ فراہم ہو۔

بلوچستان کے کوئلہ کانوں میں مسلسل ہونے والے حادثات کوئی الگ تھلگ بدقسمتی نہیں بلکہ نظامی ناکامی کی علامت ہیں۔ اس صورتحال کو درست کرنے کے لیے سیاسی عزم، کارپوریٹ جوابدہی اور انسانی زندگی کے لیے غیر متزلزل وابستگی ضروری ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، پاکستان کے کان کن ایک روک تھام کے قابل تکلیف کے چکر میں پھنسے رہیں گےملک کی توانائی کے لیے اپنی جانیں دیکر کوئلہ نکالتے رہینگے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025