اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا سلسلہ جاری، 100 انڈیکس میں 700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
- کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 710.66 پوائنٹس کے اضافے سے 162,936.93 پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت معاشی اشاریوں کی بدولت جمعرات کو بھی خریداری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجارتی سیشن کے دوران مثبت رجحان برقرار رہا، ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس 163,817.82 پوائنٹس کی دن کی بلند سطح پر جاپہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 710.66 پوائنٹس یا 0.44 فیصد اضافے سے 162,936.93 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ایل ایس ایم شعبے میں بحالی کے واضح آثار سامنے آئے ہیں کیونکہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں اس کی پیداوار میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.08 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کارپوریٹ محاذ پر غنی کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ نے میری انرجیز لمیٹڈ کے ساتھ 14 ارب روپے کے ایک اہم اجوائنٹ وینچر کا اعلان کیا ہے، جو پاکستان کے توانائی اور کیمیکل شعبوں میں ایک بڑی پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کو کے ایس ای-100 انڈیکس 1,291.15 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 162,226.28 پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی مارکیٹس میں ریلیف ریلی دیکھی گئی، جس نے ابتدائی ٹریڈنگ میں شیئرز کو سہارا دیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے این ویڈیا کی توقعات سے بڑھ کر آمدنی پر خوشی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا کیونکہ ٹریڈرز مؤخر شدہ روزگار کے اعداد و شمار کے اجرا کے لیے تیار ہورہے ہیں۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا-پیسیفک شیئرز کا سب سے وسیع انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 0.6 فیصد بڑھ گیا جو ایک ماہ کی کم ترین سطح سے بحالی کا اشارہ ہے، کیونکہ بدھ کو این ویڈیا نے سہ ماہی آمدنی کی پیش گوئی وال اسٹریٹ کے اندازوں سے کافی اوپر کی تھی۔
سی ای او جینسن ہوانگ نے بڑی کلاوڈ کمپنیوں کی جانب سے اپنی اے آئی چِپس کی زبردست طلب کا ذکر کرتے ہوئے ممکنہ اے آئی ببل سے متعلق خدشات کو نظرانداز کیا۔
ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا۔
بدھ کو نتائج جاری ہونے سے قبل وال اسٹریٹ میں مسلسل چار روزہ مندی کا سلسلہ ٹوٹ گیا تھا۔
دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کی کمائی کی رپورٹ نے اُن خدشات کو کم کیا جنہوں نے حالیہ فروخت کے دباؤ کو جنم دیا تھا، اور تینوں بڑے انڈیکس اس فروخت کے دباؤ سے سنبھل گئے۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ قدر میں معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.65 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس پر حجم کم ہو کر 725.87 ملین شیئرز رہ گیا، جو پچھلے اختتام پر ریکارڈ کیے گئے 1,029.78 ملین شیئرز کے مقابلے میں تھا۔ شیئرز کی مالیت بھی 35.32 ارب روپے تک گر گئی، جبکہ پچھلی سیشن میں یہ 45.18 ارب روپے تھی۔
بینک مکرمہ سب سے زیادہ حجم کے ساتھ سرفہرست رہا، جس کے 104.00 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 71.45 ملین اور ایف نیچرل ایکویٹیز کے 37.95 ملین شیئرز کے ساتھ باالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
جمعرات کو مجموعی طور پر 476 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 205 میں اضافہ، 187 میں کمی اور 39 میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔