پاکستان

بھارت کے خلاف پاکستان کی فوجی کامیابی نے چینی ہتھیاروں کی طاقت کو نمایاں کیا، امریکی کانگریس کو رپورٹ

  • پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے فرانسیسی رافیل طیارے مار گرانے کے لیے چینی ہتھیار استعمال کیے، رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

امریکی کانگریس میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں رواں سال مئی میں چار روزہ تنازع کے دوران بھارت پر پاکستان کی ”فوجی کامیابی“ کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے زیر استعمال فرانسیسی رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کے لیے چینی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔

امریکی حکومت کی قانون ساز شاخ، کانگریس، کے یونائیٹڈ اسٹیٹس چائنا اکنامک اینڈ سیکیورٹی ریویو کمیشن کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ “چار روزہ جھڑپ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فوجی کامیابی نے چینی ہتھیاروں کی طاقت کو نمایاں کیا ہے۔

مئی کا تنازع، جو دہائیوں میں دونوں جوہری مسلح ہمسایہ ممالک کے درمیان سب سے شدید ٹکراؤ تھا، بھارتی زیر قبضہ غیر قانونی کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھڑکا، جس کا الزام نئی دہلی نے بلا ثبوت پاکستان پر لگایا۔ اسلام آباد نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کے بیان کو ”مکمل جھوٹ و فریب سے بھرپور“ قرار دیا۔

اس کے بعد بھارت نے پاکستان میں فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں چار روزہ شدید سرحدی کشیدگی شروع ہوئی، جس میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی میزائل حملوں کے جواب میں چھ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے۔ اسلام آباد نے اس تصادم کے دوران اپنے کسی بھی طیارے کے نقصان کی تردید کی۔

دونوں ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں فائر بندی پر اتفاق کیا، جن کا کہنا تھا کہ اس کشیدگی کے دوران سات ”نئے اور خوبصورت طیارے“ مار گرائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق، چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے لڑاکا طیارے اور فضائی میزائل پہلی بار عملی جنگ میں استعمال ہوئے جب پاکستانی افواج نے چار روزہ تنازع کے دوران چینی ساختہ لڑاکا طیارے کامیابی کے ساتھ اڑائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”یہ ان نظاموں کے حقیقی جنگ میں استعمال کی پہلی معروف مثال ہے، جو پی ایل اے کے لیے قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے اور ممکنہ طور پر چین کی دفاعی برآمدات کی ساکھ کو مضبوط بناتی ہے۔“

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے دفاعی ہتھیار فراہم کنندہ کے طور پر، چین نے 2019 سے 2023 کے دوران تقریباً 82 فیصد ہتھیار کی درآمدات فراہم کی ہیں۔