کاروبار اور معیشت

بلغاریہ کی سفیر کی دوطرفہ تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز

  • دونوں ملکوں کیلئے معیشت و تجارت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کا بہترین وقت ہے
شائع November 19, 2025 اپ ڈیٹ November 19, 2025 11:55am

جمہوریہ بلغاریہ کی سفیر ارینا گانچیوا نے کہا کہ بلغاریہ اور پاکستان رواں سال اپنے سفارتی تعلقات کی 60 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، یہ دونوں ملکوں کیلے آگے بڑھنے اور بالخصوص معیشت اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کا بہترین وقت ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی حکومت سے حکومت کی سطح پر باضابطہ دوطرفہ میکنزم موجود ہے جو مشترکہ بین الحکومتی کمیشن برائے اقتصادی تعاون کی صورت میں قائم ہے۔

یہ کمیشن 2015 میں قائم ہوا جس کا پہلا اجلاس صوفیہ میں اور دوسرا اجلاس 2019 میں اسلام آباد میں ہوا جبکہ تیسرا اجلاس آئندہ سال بلغاریہ میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیشن کے آئندہ اجلاس میں پاکستانی تاجر حکومتی عہدیداروں کے ساتھ بھرپور شرکت کریں گے۔

سفیر نے بین الحکومتی کمیشن کے تیسرےاجلاس کے موقع پر بزنس ٹو بزنس فورم کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلغاریہ کے کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں سے باہمی اقتصادی مفاد کے مخصوص شعبوں کو تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔دونوں جانب سے شیڈول کو حتمی شکل دینے اور پاکستانی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے بعد مزید تفصیلات شیئر کی جائیں گی تاکہ وہ پہلے سے اپنی شرکت کی منصوبہ بندی کرسکیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلغاریہ دوطرفہ تجارت و اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر رائے کے تبادلے کو اہمیت دیتا ہے، یہ ہمارے کام کا بنیادی حصہ ہے اور اسی لیے ہم کراچی چیمبر کے ساتھ روابط کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

گزشتہ 4 سال سے پاکستان میں تعینات بلغاریہ کی سفیر نے مزیدکہا کہ انہوں نے ہمیشہ تاجر برادری کے ساتھ براہ راست بات چیت کو اہم سمجھا ہے، بالخصوص کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑاشہر اور ایک اہم بندرگاہ اور تجارتی مرکز ہے، ہمیں آپ کے شہر اور تاجر برادری کے ساتھ یہ روابط قائم رکھنے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلغاریہ کو پاکستان میں یورپی یونین کے رکن ممالک میں اتنی زیادہ پہچان حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی سرگرمیاں اہم ہیں۔میں آپ کو مزید معلومات فراہم کرنے اور بلغاریہ کے ساتھ تجارت وکاروباری مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دینے کے لیے یہاں آئی ہوں۔

انہوں نے اپنے ملک کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 6.4 ملین کی آبادی رکھنے والا بلغاریہ رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ہے لیکن اسٹریٹجک حیثیت کا حامل ہے جو یورپی یونین کا رکن ہے اور یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتا ہے۔ بلغاریہ کی سرحد ترکیہ سے ملتی ہے جو پاکستان کا ترجیحی شراکت دار ہے۔پاکستانی تاجر اکثر ترکی کا سفر کرتے ہیں۔ بلغاریہ بالکل قریب ہے۔ استنبول سے صوفیہ تک صرف ایک گھنٹہ پچاس منٹ کی پرواز ہے اور دونوں شہروں کے درمیان بذریعہ سڑک بھی سفر کیا جا سکتا ہے۔

بلغاریہ یورپی آٹوموبائلز میں استعمال ہونے والے90 فیصد پرزے تیار کرتا ہے اور زراعت، انجینئرنگ، دواسازی، قابلِ تجدید توانائی اور مختلف صنعتوں میں دیرینہ مہارت رکھتا ہے۔

قبل ازیں کراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف نے بلغاریہ کے سفیر کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان اور بلغاریہ کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلغاریہ طویل عرصے سے دوستانہ تعلقات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جو باہمی احترام، مشترکہ امنگوں اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش پر مبنی ہیں۔جغرافیائی فاصلے کے باوجود دونوں ملکوں میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی تبادلے اور عوامی روابط بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کے سی سی آئی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے وضاحت کی کہ چیمبر جہاں اندرونِ ملک تجارت کو فروغ دیتا ہے وہیں بین الاقوامی تجارتی تعاون پر بھی بھرپور زور دیتا ہے اور اپنے ممبران کو نئی مارکیٹوں اور برآمدی مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

انہوں نے عالمی شراکت داری پر کے سی سی آئی کے پختہ یقین کا اعادہ کیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، دواسازی، ٹیکسٹائل، سیاحت، لاجسٹکس، توانائی اور قابلِ تجدید ٹیکنالوجیز جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔