ریئر انڈیکس اکتوبر میں 103.95 پر پہنچ گیا
- ریئر انڈیکس کے 100 سے اوپر کا مطلب ملکی برآمدات غیر مسابقتی جب کہ درآمدات سستی ہیں
اسٹیٹ بینک کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر 2025 میں پاکستان کا رئیل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) 103.95 پر پہنچ گیا جو ستمبر 2025 میں 101.70 تھا۔
ریئر انڈیکس کے 100 سے اوپر کا مطلب یہ ہے کہ ملکی برآمدات غیر مسابقتی ہیں جب کہ درآمدات سستی ہیں۔ جب ریئر انڈیکس پر 100 سے نیچے ہوتا ہے تو صورتحال اس کے برعکس ہوتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 میں ریئر میں ماہانہ 2.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ستمبر 2024 کے مقابلے میں ریئر کی قدر میں 3.14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا،جب یہ 100.78 پر تھی۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ریئر انڈیکس کی 100 کی سطح کو کرنسی کی توازن کی قیمت کے طور پر غلط نہ سمجھا جائے۔
مرکزی بینک نے اس موضوع پر وضاحتی نوٹ میں کہا کہ ریئر کا 100 سے ہٹنا صرف 2010 کی اوسط قیمت کے مقابلے میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا تعلق کرنسی کی توازن کی قیمت سے نہیں ہے۔
اس دوران نومینل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ انڈیکس (نیئر) میں اکتوبر 2025 میں ماہانہ بنیاد پر 0.61 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ عارضی طور پر 38.00 پر پہنچ گئے جو ستمبر 2025 میں 37.77 تھا۔
سالانہ بنیاد پر نیئر انڈیکس میں 0.07 فیصد کمی ہوئی جو اکتوبر 2024 میں 38.27 کی قیمت کے مقابلے میں تھی۔
ریئر کیا ہے؟
اسٹیٹ بینک کے مطابق ریئر ایک ایسا اشاریہ ہے جو کسی بھی ملک میں سامان کی ایک ٹوکری کی قیمت کو اس ملک کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں اسی ٹوکری کی قیمت کے مقابلے میں ماپتا ہے۔ یہ قیمتیں برائے نام ایکسچینج ریٹ کے ذریعے ایک ہی کرنسی میں ظاہر کی جاتی ہیں اور ہر شراکت دار کی ٹوکری کو اس کے درآمدات، برآمدات یا کل تجارت میں حصے کے مطابق وزن دیا جاتا ہے۔