پاکستان

صدر مملکت نے متنازع 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کردیے

*سینیٹ میں منظوری کے بعد پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین کے ڈائس کے سامنے دھرنا دے کر احتجاجاً واک آؤٹ کیا
شائع اپ ڈیٹ

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جمعرات کو متنازع 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کردیے، یہ اقدام سینیٹ سے منظوری کے فوراً بعد سامنے آیا جہاں حزبِ اختلاف نے شدید احتجاج کیا۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب ایوانِ بالا نے دوسری بار بل منظور کیا، جس کا اعلان چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کرتے ہوئے بتایا کہ 64 ارکان نے بل کے حق میں اور 4 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کی جانب سے منظور شدہ ترامیم کے ساتھ بل پیش کیا، جو اکثریت کے ساتھ منظور ہوگیا۔

ووٹنگ کے دوران ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔ تحریکِ انصاف کے سینیٹرز نے چیئرمین کے ڈائس کے سامنے دھرنا دیا اور آئینی ترمیم کے خلاف نعرے لگائے۔ ارکان نے ”آئینی ترمیم نامنظور“ کے نعرے لگاتے ہوئے بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔ بعدازاں اسپیکر کی مداخلت پر اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے منحرف سینیٹرز سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، کیونکہ ان کے استعفے تاحال منظور نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت کوئی ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔

یہ بل پیر کو سینیٹ میں پیش اور منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد قومی اسمبلی نے بدھ کے روز ترامیم کے ساتھ اس کی منظوری دی، اور پھر نظرثانی شدہ مسودہ آج دوبارہ سینیٹ میں پیش کیا گیا۔

قومی اسمبلی نے ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور کیا، جہاں حکومتی ارکان کی تعداد 234 تھی جو درکار 224 ووٹوں سے زیادہ تھی۔ جے یو آئی (ف) نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

قومی اسمبلی سے منظور شدہ ترمیم میں آٹھ نئی شقیں شامل ہیں۔ سب سے اہم ترمیم آئین کے آرٹیکل 6 کی ذیلی شق 2 میں کی گئی ہے، جس کے مطابق کوئی عدالت کسی بھی سنگین غداری کے عمل کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔ اس شق میں آئینی عدالت کو بھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

ترمیم کے بعد وضاحت کی گئی ہے کہ موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اپنی مدت مکمل ہونے تک چیف جسٹس آف پاکستان کہلائیں گے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے سینئر ترین جج کو چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کیا جائے گا۔

اس تبدیلی سے وہ بحث ختم ہوگئی ہے جو گزشتہ چند دنوں سے جاری تھی کہ آیا چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ختم کیا جا رہا ہے یا آئینی عدالت کے چیف جسٹس کو منتقل کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔ان کے مطابق جسٹس یحیی آفریدی سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت اس ترمیم کے ذریعے بااثر طبقے کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور طاقت اپنے ہاتھوں میں رکھ رہی ہے۔ تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ترمیم کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور ہر فورم پر احتجاج کرے گی، بشمول عوامی مظاہروں کے۔

یہ بل اہم آئینی تبدیلیاں تجویز کرتا ہے، جن میں فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ کا قیام، عدالتی اصلاحات، اور صدرِ مملکت و فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ شامل ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ترمیم کو غلط اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی نوزائیدہ جمہوریت کو محض دکھاوے تک محدود کر دے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو آئین اپنی معنویت کھو دے گا، ان کے بقول پی ٹی آئی عوامی اعتماد سے غداری کے اس عمل کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔