ڈالر کی نسبت روپیہ مزید تگڑا
- ڈالر کا انٹربینک ریٹ ایک پیسے کی کمی سے 280.77 پر بند
انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 280.77 روپے پر جاپہنچا۔
یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 280.78 پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ڈالر میں کمی دیکھنے میں آئی کیونکہ نجی شعبے کے امریکی روزگار کے اعدادوشمار نے لیبر مارکیٹ کی ہیلتھ کے بارے میں خدشات پیدا کیے جب کہ سرمایہ کار امریکی حکومت کے جلد دوبارہ کھلنے کی تیاری کررہے ہیں جس سے اقتصادی اعدادوشمار کی روک ہوئی ریکارڈنگ دوبارہ سامنے آنے کا امکان ہے۔
گزشتہ رات پے رول پروسیسر اے ڈی پی نے کہا کہ اکتوبر کے آخر تک امریکی کمپنیوں نے ہر ہفتے 11 ہزار سے زائد ملازمتیں ختم کیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھرتی کے رجحانات ہفتہ بہ ہفتہ کس طرح بدل رہے ہیں اور یہ فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کی نگرانی میں رہنے والی لیبر مارکیٹ میں مزید کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔
امریکی ڈالر اعداد و شمار کے جاری ہونے کے بعد گرا اور بدھ کو ابتدائی ایشیائی تجارت میں اپنی کمی کو دوبارہ پورا کرنے میں ناکام رہا، کیونکہ تاجروں نے دوبارہ دسمبر میں فیڈ کی شرح میں کمی کے امکانات پر شرطیں بڑھا دی تھیں۔
یورو 1.1586 ڈالر پر مستحکم رہا اور اسٹرلنگ نے سات ماہ کی کم ترین سطح سے مزید فاصلے اختیار کرتے ہوئے آخری بار 1.3149 ڈالر پر تجارت کی۔
مختلف کرنسیوں کے مجموعے کے مقابلے میں امریکی ڈالر ایک ہفتے سے زائد کی کم ترین سطح کے قریب رہا اور آخری بار 99.46 پر تھا۔
دوسری جانب تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کے توازن کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، بدھ کے روز معمولی کمی کا شکار ہوئیں، تاہم انہوں نے گزشتہ سیشن کے زیادہ تر اضافے کو برقرار رکھا۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ کی تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے سے دنیا کی سب سے بڑی تیل استعمال کرنے والی معیشت میں طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچر کی قیمت 22 سینٹ یا 0.34 فیصد کمی کے ساتھ 64.94 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جو منگل کو 1.7 فیصد بڑھی تھی۔امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 22 سینٹ یا 0.36 فیصد کمی کے بعد 60.83 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو پچھلے سیشن میں 1.5 فیصد بڑھا تھا۔