پاکستان کی مقامی آٹو انڈسٹری کے تخمینوں کے مطابق، آٹو پارٹس کا شعبہ ہر سال تقریباً 48 سے 60 ارب روپے کا نقصان اٹھاتا ہے، جس کی وجہ د استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات ہیں۔

پاپم کے سینئر وائس چیئرمین شہریار قادر نے کہا کہ ہر درآمد شدہ گاڑی تقریباً 15 لاکھ روپے کی مقامی طور پر تیار شدہ پرزہ جات کی مارکیٹ کو متاثر کرتی ہے۔ یہ نقصان براہ راست معاشی سرگرمیوں کی کمی، ٹیکس ریونیو میں کمی، اور روزگار کے مواقع میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس طرح بڑے پیمانے پر مقامی ویلیو ایڈیشن کا نقصان جاری رہا تو حکومت کی لوکلائزیشن اور ’میک ان پاکستان‘ کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

شہریار قادر نے بتایا کہ آٹو انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی یعنی مقامی وینڈر بیس پہلے ہی دباؤ میں ہے کیونکہ ہر استعمال شدہ گاڑی کی درآمد سے وینڈرز اپنا براہِ راست کاروبار کھو دیتے ہیں، کیونکہ یہ گاڑیاں مقامی سپلائی چین کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرڈرز میں کمی سے پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے، مالی مشکلات بڑھتی ہیں، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ وینڈرز کا بند ہونا نہ صرف روزگار متاثر کرتا ہے بلکہ لوکلائزیشن، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مہارت کی ترقی میں برسوں کی پیش رفت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

شہریار قادر نے مزید بتایا کہ آٹوموٹو شعبہ لاکھوں ہنر مند اور نیم ہنر مند ملازمین کو روزگار فراہم کرتا ہے، لیکن ہر درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑی نہ صرف مقامی اسمبلی لائنز کے لیے فروخت کا موقع ضائع کرتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی کم کر دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی لائنز سست پڑتی ہیں اور وینڈر فیکٹریاں بند ہوتی ہیں تو یہ ویلیو چین میں روزگار کے نقصان کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے، جو پرزہ جات کی فراہمی سے لے کر لاجسٹکس اور بعد از فروخت سروسز تک اثر انداز ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے آٹو پارٹس مینوفیکچررز مجموعی طور پر مینوفیکچرنگ صنعت کے کسی بھی دوسرے ذیلی شعبے سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیتے ہیں تقریباً تین لاکھ براہِ راست اور دو ملین سے زائد بالواسطہ طور پر۔

شہریار قادر نے کہا کہ یہ فرمیں عالمی معیار کی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی، مقامی کاری اور ہنر مند مزدور میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں، لیکن استعمال شدہ گاڑیوں کی بلا روک ٹوک درآمد اب ان کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ پاپم نے بارہا وارننگ دی ہے، کئی وینڈرز بند ہو سکتے ہیں، جس سے دہائیوں کی صنعتی ترقی ضائع ہو جائے گی اور ہزاروں کارکنان روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔

شہریار قادر نے نتیجہ اخذ کیا کہ چونکہ حکومت کی ترجیح روزگار پیدا کرنا ہے، اس کے لیے ملک کو مضبوط مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر ترقی دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جو اپنی آٹو انڈسٹری قائم کر چکے ہیں، انہوں نے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دے کر اور آہستہ آہستہ عالمی مارکیٹ کے ساتھ مربوط ہو کر یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025