تحریک تحفظ آئین نے آئینی بل کی منظوری کے خلاف مزاحمت کا اعلان کردیا
- ایک گروہ نے انتخابات کے بغیر پاکستان پر قبضہ کر لیا ہے، محمود اچکزئی
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئینِ پاکستان( ٹی ٹی اے پی) نے تجویز کردہ 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا اور اسے فردی مفاد پر مبنی قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔
ٹی ٹی اے پی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، وائس چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر اور مجلس وحدت المسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے اتوار کو اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ترمیم کے خلاف ہر صورت مزاحمت کریں گے۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ تحریک شام 8:30 بجے ”ایسے دستور کو ہم نہیں مانتے“ کے نعرے کے ساتھ شروع ہوگی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک گروہ نے انتخابات کے بغیر پاکستان پر قبضہ کر لیا ہے اور صورتحال کو ملک کی بنیادوں حملے کے مترادف قرار دیا۔
چیئرمین ٹی ٹی اے پی نے کہا کہ یہ بھی ایک 9/11 کے مترادف ہے اور اتحاد کی جدوجہد ذاتی دشمنی پر مبنی نہیں بلکہ آئین اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ہے۔ وائس چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ یہ ترمیمیں آئین کی روح کو کمزور کرتی ہیں۔
مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ بنیادی طور پر ایک سوشل کانٹریکٹ یہ طے کرتا ہے کہ ریاست افراد کے بنیادی حقوق کیسے یقینی بناتی ہے اور آئین اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل کانٹریکٹس کا تعلق شخصیات سے نہیں ہوتا اور آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترامیم فردی مفاد پر مبنی ہیں، جس کا مقصد صرف ایک فرد، یعنی فیلڈ مارشل کے لیے فائدہ حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ نہیں اور فروری 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات درست ہیں۔ عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 27ویں ترمیم کے راستے ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس میں حکومتی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی گئیں اور پی ٹی آئی کے لیے گزشتہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ تباہ ہو چکی ہیں اور حکمران ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد ترمیم کو روکنے کے لیے ہر حد تک جائے گا اور آج دنیا بھر میں یہ نعرہ بلند کیا جائے گا۔
ٹی ٹی اے پی نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس ہفتے اسلام آباد میں قومی مشاورتی کانفرنس ہوگی، جس میں زندگی کے تمام شعبوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ 27ویں ترمیم کی جعلی منظوری کے دن کو بلیک ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے، شہریوں کو سیاہ پٹیاں پہننے کی ہدایت دی گئی ہے اور وکلا کو عدالتوں میں سیاہ پٹیوں کے ساتھ احتجاج کرنے کو کہا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مشاورتی کانفرنس کے بعد ملک بھر میں ریلیاں اور اجتماعات ہوں گے اور عوامی آگاہی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025