پاکستان

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا گرفتار

  • سربراہ ایس آئی سی کو فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کرنے کے بعد سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا، اے ٹی سی کا فیصلہ جلد متوقع
شائع November 7, 2025 اپ ڈیٹ November 7, 2025 12:28pm

سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کو گرفتار کرلیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان کے مطابق اسلام آباد پولیس نے جمعہ کو سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کو اُس وقت گرفتار کرلیا جب وہ 9 مئی کے فسادات سے متعلق ایک کیس میں خود کو پیش کرنے کے لیے پشاور سے فیصل آباد جارہے تھے۔

پی ٹی آئی کے مطابق حامد رضا کے بیٹے حسن رضا نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کا ارادہ تھا کہ وہ خود کو سرنڈر کرکے انتخابی عمل روکنے اور اپنی سزا کو چیلنج کرنے کے لئے اپیل دائر کریں۔

حامد رضا کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق ایس آئی سی کے سربراہ کو فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں سینٹرل جیل فیصل آباد منتقل کر دیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ اے ٹی سی کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔

مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق ایس آئی سی کے سربراہ مختلف مقدمات میں مطلوب تھے جن میں ریاستی اداروں کے خلاف توڑ پھوڑ اور پرتشدد احتجاج کے الزامات شامل ہیں اور وہ انسدادِ دہشت گردی عدالت سے پہلے ہی سزا یافتہ ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ انہیں 9 مئی کے فسادات کے حوالے سے سزا سنائی گئی تھی، تاہم سزا کے بعد سے وہ مفرور تھے۔

پاکستان الیکشن کمیشن (ای سی پی) نے 5 اگست کو پی ٹی آئی کے اتحادی حامد رضا سمیت متعدد قانون سازوں جن میں شبلی فراز، عمر ایوب اور زرتاج گل شامل ہیں کو 9 مئی کے فسادات سے متعلق فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے بعد نااہل قرار دے دیا تھا۔

نوٹیفکیشن میں ای سی پی نے واضح کیا تھا کہ چونکہ مذکورہ افراد کو اے ٹی سی نے سزا سنائی ہے لہٰذا وہ نااہل ہیں اور ان کی رکنیت منسوخ کی جاتی ہے، چنانچہ الیکشن کمیشن کے مطابق ان کی نشست خالی تصور کی گئی تھی۔