شفافیت اور سیکیورٹی مسائل سی پیک پر مؤثر عمل درآمد میں رکاوٹ بن گئے ، ماہرین
- پاک چین اقتصادی راہداری میں اصلاحات کیلئے عالمی کانفرنس میں ڈاکٹر آرنے سٹرینڈ ودیگر کی تجاویز
ماہرین نے زور دیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے ، تاکہ ملک میں تنازعات اور ترقیاتی خلاؤں کی بنیادی وجوہات کو بہتر طور پر حل کیا جا سکے اور پائیدار امن و ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں اسٹریٹجک راہداریوں کا جائزہ : پاکستان اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سی پیک کی کوششیں کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی گول میز کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شفافیت، حکمرانی اور سیکیورٹی کے مسائل سی پیک منصوبے پر مؤثر عمل درآمد میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
کانفرنس میں چین ، ناروے اور پاکستان سے ماہرین ، ڈپلومیٹس، قانون ساز، صحافی اور امن و ترقی کے ماہرین نے شرکت کی۔ ڈاکٹر آرنے سٹرینڈ نے کہا کہ سی پیک کے تحت عوامی منصوبوں کو ترجیح دی جائے اور پاکستان میں تنازعات اور ترقیاتی خلاؤں کو دور کرنے کے لیے ضروری اصلاحات کی جائیں۔
ڈاکٹر ژانگ جیگن نے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ڈاکٹر ما ژینگ نے بلوچستان کے احساس محرمی کا شکار ہونے والے علاقوں کو ترقیاتی منصوبوں میں ضم کرنے پر زور دیا۔
سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ دہشت گردی سی پیک کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جبکہ سینیٹر جان محمد بلیڈی نے کہا کہ سیاسی اتفاق رائے کے بغیر اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔
ڈاکٹر وانگ ژو نے کہا کہ چین پاکستان میں غربت کے خاتمے اور سماجی ترقی میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ امتیاز گل نے کہا کہ پاکستان کو سی پیک کے نفاذ کے لیے اپنے حکمرانی ماڈل میں اصلاحات لانا ہوں گی۔
پی آئی پی ایس کے صدر محمد عامر رانا نے کہا کہ کشیدہ حالات اور حکمرانی کے مسائل سی پیک پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر