ڈسکوز کے افسران کی اہلیت پر نیپرا کے سخت سوالات
- دیہی علاقوں میں صارفین کو ڈیٹیکشن بلز جاری کیے جا رہے ہیں،سیپکو چیف کا اعتراف
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بدھ کے روز تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے اعلیٰ حکام کی پیشہ ورانہ اہلیت اور ان کے انتظامی طرزِ عمل پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا۔
یہ صورتحال سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی (سیپکو) کی جانب سے مالی سال 2025-26 سے 2029-30 تک کے لیے تقسیم اور سپلائی ٹیرف کے تعین سے متعلق ملٹی ایئر ٹیرف درخواست پر عوامی سماعت کے دوران سامنے آئی۔ سماعت اس وقت سخت رخ اختیار کر گئی جب بجلی چوری اور نادہندگان سے متعلق واجبات اور ڈیٹیکشن بلز کے معاملات زیر بحث آئے۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اعجاز احمد چنہ نے اعتراف کیا کہ دیہی علاقوں میں ایسے صارفین کو ڈیٹیکشن بلز جاری کیے جا رہے ہیں جو کُنڈوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر بجلی استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے کنکشن یا میٹر منقطع ہو چکے ہیں۔
ایک نیپرا اہلکار نے بتایا کہ سیپکو کے 86 میٹر خراب ہیں، جن میں سے 31 ایک سال سے کم اور 11 ایک سال سے زائد عرصے سے خراب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان صارفین کو اوسط بل بھیجے جا رہے ہیں، جبکہ سیپکو کے سی ای او نے دعویٰ کیا کہ تمام خراب میٹرز کو حالیہ بلنگ سائیکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تاہم نیپرا اہلکار نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر 4.6 ارب روپے کے ڈیٹیکشن بلز جاری کیے گئے، جن میں سے صرف 4 کروڑ 70 لاکھ روپے وصول ہوئے۔
روہڑی ڈویژن میں 93 ہزار صارفین میں سے 50 ہزار کو ڈیٹیکشن بلز بھیجے گئے، جبکہ سکھر میں ایک خالی پلاٹ پر بھی بل جاری کیا گیا جس کا کوئی بجلی کنکشن موجود نہیں۔
نیپرا کے رکن (ڈیولپمنٹ) مقصود انور خان نے صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے سیپکو اپنی الگ حکومت چلا رہا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے 70 فیصد سے زائد صارفین بغیر میٹر کے ہیں اور انہیں تخمینہ بلز بھیجے جا رہے ہیں۔
رکن (ٹیکنیکل) رفیق احمد شیخ، جو خود سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے بے بسی کا اظہار کیا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم اپنا سر کس دیوار سے ٹکرائیں۔
رکن (لاء) آمنہ احمد نے مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکوز کے افسران کو اپنے ہی نظام کی سمجھ نہیں، اسی لیے انہوں نے سماعت کے دوران سوالات نہیں کیے۔
اپنی درخواست میں سیپکو نے نیٹ میٹرنگ صارفین پر فی کلوواٹ ایک ہزار روپے فکسڈ چارج عائد کرنے کی تجویز دی تاکہ کمپنی پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے اور عام صارفین کی جانب سے لائف لائن صارفین کو دی جانے والی کراس سبسڈی کو محدود کیا جا سکے۔
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے قائم مقام سی ای او فیض اللہ ڈاہری نے نیٹ میٹرنگ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے دو تجاویز پیش کیں: منظور شدہ لوڈ یا ایکسپورٹ کیپیسٹی کی بنیاد پر فکسڈ نیٹ ورک یوز چارجز کا نفاذ، یا کراس سبسڈی سے بچنے کے لیے گراس میٹرنگ فریم ورک کا نفاذ۔
نیپرا نے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کی ملٹی ایئر ٹیرف درخواست پر بھی علیحدہ عوامی سماعت منعقد کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025