نیپال کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم سوشیلا کرکی کی حکومت کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے تقریباً ایک درجن سفیروں کی برطرفی کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ بات پیر کو ایک وکیل نے رائٹرز کو بتائی۔
کرکی، جو ستمبر میں ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں اور ماضی میں چیف جسٹس رہ چکی ہیں، نے چین، امریکا، برطانیہ اور جاپان سمیت کئی ممالک میں تعینات 11 سفیروں کو واپس بلانے کا حکم دیا تھا۔ یہ سفیر سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کی حکومت کے دوران مقرر کیے گئے تھے۔
حکومت نے سفیروں کی برطرفی کی وجہ ان کی کارکردگی سے عدم اطمینان کو قرار دیا تھا۔ تاہم وکیل اننت راج لوئٹیل، جنہوں نے عدالت میں اس فیصلے کو چیلنج کیا، نے کہا کہ حکومت اپنے الزامات کو عدالت میں ثابت نہیں کر سکی۔ “عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام سفیر اپنی ذمہ داریاں معمول کے مطابق انجام دیں گے،” انہوں نے بتایا۔
وزیر برائے اطلاعات و نشریات جگدیش کھریال نے کہا کہ حکومت عدالت کے فیصلے کا احترام کرے گی۔
73 سالہ کرکی کو 5 مارچ تک نئے عام انتخابات کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے ایک چھوٹی مگر اصلاحات پر مبنی کابینہ تشکیل دی ہے جس میں اینٹی کرپشن پس منظر رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار پورنجن آچاریا کے مطابق عدالت کا فیصلہ کرکی کے لیے ایک ’’سیاسی دھچکا‘‘ ہے، تاہم طویل مدت میں یہ ان کے لیے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ کرکی پر ’’جن زی‘‘ تحریک کے مظاہرین کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ وہ مزید سرکاری اہلکاروں، بشمول اینٹی کرپشن کمیشن کے سربراہ کو بھی برطرف کریں۔